Urdu book · تعمیر حیات

ایک اقتباس

Urdu book, p. 232

By Maulana Wahiduddin Khan

موشے دایان کا یہ جملہ بہت بامعنی ہے کہ مسلمان اپنے آپ کو اپنی ماضی کے اعتبار سے دیکھتے ہیں اور ہم ان کو ان کے حال کے اعتبار سے دیکھتے ہیں۔ اسی بات کو ایک مغربی مبصر نے اس طرح بیان کیا کہ مسلمانوں کا کیس موجودہ زمانے میں پیرانوئیا (paranoia) کا کیس بن گیا ہے۔ پیرانوئک کیر کٹر وہ ہے جو پدرم سلطان بود کی نفسیات میں جینے لگے۔ ایسے لوگ ہمیشہ اپنے بارے میں فخر میں مبتلا رہتے ہیں۔ مگر دوسرے لوگوں سے انھیں اس کے خلاف تجربہ ہوتا ہے۔ کیونکہ دوسرے لوگ ان کو ان کے حال کے مطابق دیکھتے ہیں اور ان کے حال کے اعتبار سے ان کے ساتھ معاملہ کرتے ہیں ۔ چنانچہ ایسے لوگ نفرت اور جھنجھلاہٹ کا شکار ہوجاتے ہیں کیونکہ وہ محسوس کرتے ہیں کہ لوگ ہماری حیثیت کے مطابق ہمارا اعتراف نہیں کر رہے ہیں۔ گزرے ہوئے لوگوں کی بڑائی میں جینا، اپنے نتیجے کے اعتبار سے صرف ہلاکت ہے، اس کے سوا اور کچھ نہیں۔ اس میں بیک وقت دو بڑے نقصانات چھپے ہوئے ہیں۔ ایک یہ ہے کہ جو لوگ اس نفسیات میں مبتلا ہوں وہ خود فکری اور خود عملی کی صلاحیت کھودیتے ہیں۔ ان کی سوچ پچھلوں کی سوچ کے دائرے میں چلتی ہے۔ وہ پچھلے لوگوں کے کارناموں کا مبالغہ آمیز تذکرہ کرنے کو عمل کا قائم مقام سمجھ لیتے ہیں۔ ایسے لوگ کبھی خود عمل کرنے والے نہیں بن سکتے۔ دوسرا نقصان یہ ہے کہ دوسرے لوگ جن کے درمیان انھیں جینا ہے، ان کے بارے میں وہ نہایت خلاف واقعہ رائے قائم کر لیتے ہیں۔ یہ دوسرے لوگ چونکہ انھیں ان کے حال کے اعتبار سے دیکھتے ہیں اس لیے وہ انھیں زیادہ اہمیت نہیں دیتے ۔ دوسروں کا یہ رویہ اگرچہ تمام تر حقیقت پر مبنی ہوتا ہے لیکن بزرگوں کے قصوں میں جینے والے لوگ اس کو اپنے سے کم سمجھ لیتے ہیں، اس لیے وہ خلاف واقعہ پر یہ یقین کر لیتے ہیں کہ دوسرے لوگ سب کے سب ان کے دشمن ہیں۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page