تعمیر حیات
Urdu book, p. 233
By Maulana Wahiduddin Khan
ایسے لوگ یا تو عمل نہیں کرتے۔ یا اگر وہ عمل کرتے ہیں تو ان کی منصوبہ بندی ہمیشہ اس مفروضہ پر ہوتی ہے کہ دوسرے لوگ سب کے سب ان کے حق میں ظالم اور متعصب ہیں۔ ایسی منصوبہ بندی مبنی بر حقائق نہیں ہوتی ، اور جو منصوبہ بندی مبنی بر حقائق نہ ہو، اس کے لیے خدا کی اس محکم دنیا میں کامیاب ہونا بھی مقدر نہیں۔ وقت کا استعمال میں نے وقت کو برباد کیا تھا، اب وقت مجھے برباد کر رہا ہے ۔ اگر آپ نے اپنے پچھلے دنوں میں وقت کو استعمال نہیں کیا ہے تو آپ اپنے اگلے دنوں میں اپنے وقت کو استعمال کرنے کے قابل نہیں رہیں گے۔ اس طرح آپ کی بر بادی بڑھتی ہی چلی جائے گی۔ وقت کسی آدمی کا سب سے زیادہ قیمتی سرمایہ ہے۔ وقت اس لیے ہے کہ آدمی اس کو استعمال کر کے اپنے کو کامیابی کا اہل بنائے۔ جو آدمی وقت کو ضائع کرے اس نے صرف وقت کو ضائع نہیں کیا بلکہ خود اپنے آپ کو بھی ضائع کر دیا۔ کیوں کہ اس قسم کی غفلت کا نقصان اس کی اپنی ذات کے سوا کسی اور کو پہنچنے والا نہیں۔ جو وقت آپ کو ملا ہے اس کو یا تو اپنی تیاری میں استعمال کیجیے یا اپنے مقصد کے حصول کے لیے جد و جہد میں۔ یہی وقت کا صحیح استعمال ہے۔ اگر ایسا ہے کہ آپ نہ تیاری میں لگے ہوئے ہیں اور نہ حصول مقصد کی جد و جہد میں، تو اس کا مطلب یہ ہے کہ آپ اپنے وقت کو ضائع کر رہے ہیں۔ ملے ہوئے وقت کو ضائع کرنا بلاشبہ سب سے بڑا نقصان ہے ۔ یہ ایسا نقصان ہے جس کی کوئی تلافی ممکن نہیں۔ آپ کھوئی ہوئی دولت کو دوبارہ کما سکتے ہیں۔ مگر آپ کھوئے ہوئے وقت کو دوبارہ لوٹا کر اپنی طرف واپس نہیں لا سکتے۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader