تعمیر حیات
Urdu book, p. 24
By Maulana Wahiduddin Khan
بظاہر مقام واقعہ پر موجود نہ تھا مگر ایک صاحب بصیرت آدمی غور کر کے اسے جان سکتا تھا۔ وہ یہ کہ اگر ان جاہلوں سے ٹکراؤ کیا جائے اور ان کو سزا دینے کی کوشش کی جائے تو اس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ ایک اور انتہائی اہم مصلحت تباہ ہو جائے گی۔ یعنی وقت پر امتحان ہال یا ریلوے اسٹیشن نہ پہنچنا اور محض ایک وقتی نوعیت کی جذباتی تسکین کی خاطر زیادہ بڑے فائدے سے اپنے آپ کو محروم کر لینا ۔ مذکورہ قول میں اسی دوسرے یا بظاہر نہ دکھائی نہ دینے والے پہلو کو معاملے کا اضافی پہلو کہا گیا ہے۔ معاملے کا ابتدائی پہلو، یعنی زیادتی کرنے والے کی زیادتی، ہر آنکھ والا دیکھتا ہے مگر معاملے کے دوسرے پہلو یا اضافی قدر (relative value) کو وہی شخص دیکھے گا جو گہری بصیرت کا حامل ہو اور اپنے اقدام کا فیصلہ عقلی غور و فکر کے تحت کرتا ہو، نہ کہ محض وقتی جذبات کے تحت۔ موجودہ دنیا کا نظام اس طرح بنا ہے کہ یہاں اکثر معاملات میں یہ دونوں پہلو موجود ہوتے ہیں۔ غیر دانش مند آدمی صرف سامنے کی صورت حال کو دیکھ پاتا ہے اور اس کے مطابق کارروائی کر کے اپنے معاملے کو بگاڑ لیتا ہے۔ دانش مند انسان وہ ہے جو معاملے کے دیگر پہلوؤں کو دیکھ سکے۔ جو سامنے کی صورت حال سے اوپر اٹھ کر ان حقیقتوں کا ادراک کرلے، اگرچہ جو مقام پر موجود نہیں مگر آخر کار ظاہر ہو کر وہی فیصلہ کن بن جائیں گی۔ موجودہ دنیا اسی دانش مندی کا امتحان ہے۔ جو آدمی اس اعتبار سے دانش مند ثابت ہو وہی اس دنیا میں کامیاب ہوگا۔ اور جو آدمی اس دانش مندی کا ثبوت نہ دے سکے اس کے لیے یہاں ناکامی کے سوا کوئی اور انجام مقدر نہیں۔ حکمتِ اعراض ایک صاحب اپنے خط مورخہ 28 ستمبر 1999 میں لکھتے ہیں: میں نے ہندی اخبار ”ہندوستان“ کا شمارہ 28 ستمبر 1999 پڑھا۔ اس کے اداریہ میں یہ لکھا تھا کہ حال میں صورت

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader