دوسرا موقع
Urdu book, p. 242
By Maulana Wahiduddin Khan
زندگی سیکنڈ چانس ( دوسرے موقع ) کو استعمال کرنے کا نام ہے ۔ یہ ایک ایسی حقیقت ہے جو فرد کے لیے بھی اتنی ہی صحیح ہے جتنی قوم کے لیے۔ پوری تاریخ اس حقیقت کی تصدیق کرتی ہے۔ دورِ اول میں اسلام کو مکہ میں موقع نہ مل سکا۔ اس کے بعد اسلام نے مدینہ کے موقع کو استعمال کر کے اپنی تاریخ بنائی۔ مغربی قومیں صلیبی جنگوں میں اپنے لیے موقع نہ پا سکیں تو انھوں نے علمی مواقع کو استعمال کر کے دوبارہ کامیابی کا مقام حاصل کیا، وغیرہ۔ موجودہ دنیا میں اکثر ایسا ہوتا ہے کہ آدمی پہلے موقع کو کھو دیتا ہے۔ کبھی اپنے ناقص تجربہ کی وجہ سے اور کبھی دوسروں کی سرکشی کی وجہ سے۔ مگر پہلے موقع کو کھونے کا مطلب ایک موقع کو کھونا ہے، نہ کہ سارے مواقع کو کھونا۔ پہلا موقع کھونے کے بعد اگر آدمی مایوس نہ ہو تو جلد ہی وہ دوسرا موقع پالے گا جس کو استعمال کر کے وہ دوبارہ اپنی منزل پر پہنچ جائے۔ جن مواقع پر دوسرے لوگ قابض ہو چکے ان کو ان سے چھینے کی کوشش کرنا عقل مندی نہیں۔ عقل مندی یہ ہے کہ جو مواقع ابھی باقی ہیں ان پر قبضہ حاصل کرنے کی کوشش کی جائے۔ ٹائمز آف انڈیا 13 اپریل 1989 (سکشن 2 ، صفحہ 4) ، میں نیو یارک کی ڈیٹ لائن کے ساتھ ایک رپورٹ چھپی ہے ۔ اس کا عنوان — سپر کمپیوٹر میں امریکہ سے آگے بڑھ جانے کے لیے جاپان کی کوشش : Japan's bid to excel the US in supercomputers رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ سپر کمپیوٹر کے میدان میں امریکہ کا طویل مدت کا غلبہ اب مشتبہ ہو گیا ہے۔ امریکہ کی ایک کارپوریشن کے تجزیہ کاروں نے مطالعہ کے بعد یہ اعلان کیا ہے کہ جاپان کا بنایا ہوا ایک سپر کمپیوٹر 1990 میں مارکیٹ میں آجائے گا۔ یہ دنیا کی سب سے زیادہ تیز کام کرنے والی مشین ہوگی۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader