Urdu book · تعمیر حیات

حکمتِ امراض

Urdu book, p. 25

By Maulana Wahiduddin Khan

(گجرات) میں ”گنیش وسرجن“ کا جلوس نکالا۔ اس موقع پر پولیس اور جلوس کے درمیان ٹکراؤ ہو گیا۔ پتھر اؤ اور فائرنگ کے نتیجہ میں جلوس کے آٹھ افراد ہلاک اور کئی درج زخمی ہو گئے۔ یہ جلوس شہر کے مسلم محلہ کی ایک مسجد کے پاس سے گزر رہا تھا۔ ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ مسلم اور ہندو یا مسلم اور پولیس کے درمیان لڑائی ہو جاتی مگر عملاً اس کا الٹا ہوا۔ مسلمانوں نے وہاں پر صبر کا رویہ اپنایا جس کی وجہ سے انھیں اس کا پھل مل گیا۔ اس میں کسی بھی مسلمان کا نقصان نہیں ہوا۔ کیوں کہ ٹکراؤ انتظامیہ اور ہندوؤں کے درمیان ہوا تھا۔ یہ پڑھ کر آپ کی وہ بات یاد آگئی جو آپ ”الرسالہ“ یا کئی دیگر کتابوں میں لکھ چکے ہیں۔ (سہیل احمد، حسن الپٹا منزل، جامعۃ الفلاح، بلریا گنج، اعظم گڑھ)۔ ”سورت“ کا یہ واقعہ تمام اخباروں میں آچکا ہے۔ اس واقعے میں بہت بڑا سبق ہے۔ اس سبق کی طرف الرسالہ میں بار بار نشان دہی کی جاتی رہی ہے۔ وہ یہ کہ ــ مسلم کش فسادات کا اصل سبب جلوس کا نکلنا اور اس کا مسلم محلہ سے گزرنا نہیں ہے بلکہ اس کا اصل سبب یہ ہے کہ جب جلوس نکلے تو محلہ والے اس کے مقابلے میں غیر حکیمانہ رویہ اختیار کریں۔ حکیمانہ رویہ ہمیشہ حفاظت کا ضامن ہوتا ہے اور غیر حکیمانہ رویہ ہمیشہ نقصان کا باعث بنتا ہے۔ اس معاملے کا خلاصہ یہ ہے کہ جلوس کے وقت وہاں کے مسلمان اگر منفی ردّ عمل کا طریقہ اختیار کریں تو مسئلہ مسلم و رسس پولیس بن جائے گا۔ اور اگر وہاں کے مسلمان ایسے موقع پر اعراض کا رویہ اختیار کریں تو سارا مسئلہ جلوس ورسس پولیس بن جائے گا۔ اس اصول کی صداقت بار بار فسادات کی صورت میں سامنے آچکی ہے۔ سورت کا مذکورہ واقعہ اس حکمت کی ایک مثبت مثال ہے۔ دور اول کے مسلمان مخالفین کی سازشوں اور زیادتیوں میں گھرے ہوئے تھے۔ اس وقت نصیحت کرتے ہوئے ان سے کہا گیا کہ : اگر تم صبر کرو اور اللہ سے ڈرو تو ان کی کوئی سازش تم کو نقصان نہ پہنچائے گی (آل عمران، 3:120)۔ اب یہ غور کیجیے کہ دشمن کی سازشوں

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page