Urdu book · تعمیر حیات

تعمیر حیات

Urdu book, p. 265

By Maulana Wahiduddin Khan

کے موقع پر دوسری بہت سی جگہوں میں ہو چکا ہے۔ یعنی فرقہ وارانہ فساد اور جان و مال کی تباہی۔ اس کے بعد شاید ایسا ہوتا کہ افضل صاحب خدا نخواستہ گھر پہنچنے کے بجائے اسپتال لے جائے جاتے اور علاقہ میں ہندو مسلم فساد برپا ہو کر سینکڑوں خاندانوں کو برباد کر دیتا۔ افضل صاحب نے یہ واقعہ بتانے کے بعد کہا: اس وقت مجھے الرسالہ کی بات یاد آئی۔ یہ الرسالہ کے دیے ہوئے ذہن کا نتیجہ تھا کہ میں اشتعال کے موقع پر اشتعل ہونے سے بچ گیا، اور نتیجہ اس کے برے انجام سے بھی۔ میرے گلاس بھر پانی نے سیکڑوں لوگوں کو اس بھیانک انجام سے بچا لیا کہ ان کا خون سڑکوں پر بہایا جائے۔ ایک قسم کے الفاظ بول کر آپ آدمی کے ذہن کو غصہ کا تنور بنا سکتے ہیں۔ اور دوسرے قسم کے الفاظ بول کر آدمی کے بھڑکتے ہوئے غصہ کو ٹھنڈا کر سکتے ہیں۔ الفاظ آگ کا کام بھی کرتے ہیں اور برف کا کام بھی۔ یہ بولنے والے کے اپنے اوپر ہے کہ وہ دونوں میں سے کس چیز کا اپنے لیے انتخاب کرتا ہے۔ آسان حل الطاف حسین حالی پانی پتی (1914-1837) ایک انقلابی ذہن کے آدمی تھے۔ انھوں نے اردو ادب میں اصلاح کی تحریک چلائی۔ انھوں نے قدیم اردو شاعری پر سخت تنقید کی۔ انھوں نے کہا کہ اردو شاعری مبالغہ اور عشق و عاشقی اور فرضی خیال آرائی کا مجموعہ ہے۔ اس کے بجائے اس کو بامقصد شاعری ہونا چاہیے۔ اس کا ایک نمونہ انھوں نے خود ”مسدس“ کی صورت میں پیش کیا۔ حالی کی یہ تنقید ان لوگوں کو بہت بری لگی جو اردو شاعری پر ناز کرتے تھے اور اس کو اپنے لیے فخر بنائے ہوئے تھے۔ چنانچہ حالی کے خلاف نہایت زیبا قسم کے مضامین شائع ہونا شروع ہوئے۔ لکھنؤ کا اخبار ”اودھ پنچ“ اکثر نہایت برے انداز میں ان کے خلاف لکھتا

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page