مشتعل نہ کیجیے
Urdu book, p. 273
By Maulana Wahiduddin Khan
مشتعل نہ کیجیے ہندوستان میں سب سے زیادہ شیر گیر (گجرات) کے جنگل میں پائے جاتے ہیں۔ یہاں ان کے لیے بہت بڑا کھلا پارک بنایا گیا ہے جس کو Gir Forest Sanctuary کہا جاتا ہے۔ بیسویں صدی کے آغاز میں یہاں 20 سے بھی کم تعداد میں شیر پائے جاتے تھے مگر مئی 1990 کی گنتی کے مطابق، اب وہاں 280 شیر ہیں۔ ان شیروں کی وجہ سے انسانی زندگی کو خطرہ پیدا ہو گیا ہے۔ ٹائمز آف انڈیا (22 اگست 1990) کی ایک رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ پچھلے دو برسوں میں ان شیروں نے علاقہ کے 16 آدمی مار ڈالے اور 140 آدمیوں کو زخمی کیا۔ ان حادثات کے بعد مسٹر روی چیلم کی قیادت میں ایک ٹیم کو مقرر کیا گیا تا کہ وہ صورت حال کے بارے میں تحقیق کرے۔ انھوں نے تحقیق کے بعد یہ بتایا ہے کہ شیروں نے اگرچہ بہت سے انسانوں کو نقصان پہنچایا اور ان پر حملے کیے۔ مگر یہ حملے محض شیروں کی درندگی کی بنا پر نہ تھے۔ ریسرچ کرنے والوں نے انسان کے اوپر شیر کے اکثر حملوں کا سبب اشتعال انگیزی کو قرار دیا ہے: The researchers have attributed most of the lion attacks on humans to provocations of the animals. شیر ایک خوں خوار درندہ ہے۔ وہ انسان کے لیے سب سے بڑا خطرہ ہے۔ مگر شیر اپنی ساری درندگی کے باوجود اپنی فطرت کے ماتحت رہتا ہے۔ اور اس کی فطرت یہ ہے کہ وہ اشتعال انگیزی کے بغیر کسی انسان کے اوپر حملہ نہ کرے۔ یہ قدرت کی نشانیوں میں سے ایک نشانی ہے جو یہ بتاتی ہے کہ "درندہ انسانوں" کے ظلم سے کس طرح بچایا جائے۔ درندہ انسان کے ظلم سے بچنے کی واحد یقینی تدبیر یہ ہے کہ اس کو

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader