مشتعل نہ کیجیے
Urdu book, p. 274
By Maulana Wahiduddin Khan
اس کی فطرت کی ماتحتی میں رہنے دیا جائے۔ اشتعال دلانے سے پہلے ہر انسان اپنی فطرت کے زیر حکم رہتا ہے۔ اور اشتعال دلانے کے بعد ہر آدمی اپنی فطرت کے حکم سے باہر آ جاتا ہے۔ گویا فطرت خود ہر آدمی کو ظلم و فساد سے روکے ہوئے ہے۔ ایسی حالت میں آپ کو جوابی کارروائی کرنے کی کیا ضرورت۔ مشتعل ہونے سے پہلے شیر ایک بے ضر حیوان ہے۔ مشتعل ہونے کے بعد شیر ایک مردم خور حیوان بن جاتا ہے۔ آپ شیر کو مشتعل نہ کیجیے، اور پھر آپ اس کے نقصان سے محفوظ رہیں گے۔ نرمی اور تحمل کوئی بزدلی کی بات نہیں، یہ زندگی کا ایک اہم اصول ہے جو خود خالق فطرت نے تمام مخلوقات کو سکھایا ہے۔ عربی کا ایک مثل ہے: السَّمَاحُ رَبَاحٌ۔ یعنی معاملات میں نرمی اور وسعت ظرف کا طریقہ ہمیشہ مفید ہوتا ہے۔ یہ مثل انسانی تجربات سے بنی ہے۔ انسان نے ہزاروں برس کے دوران دونوں قسم کا تجربہ کیا۔ نرم رویہ کا بھی اور سخت رویہ کا بھی۔ آخر کار تجربات سے ثابت ہوا کہ سخت رویہ الٹا نتیجہ پیدا کرتا ہے، اس کے مقابلے میں نرم رویہ ایسا نتیجہ پیدا کرتا ہے جو آپ کے لیے مفید ہو۔ ریلوے اسٹیشن پر دو آدمی چل رہے تھے۔ ایک آدمی آگے تھا، دوسرا آدمی پیچھے پیچھے والے کے ہاتھ میں ایک بڑا بکس تھا۔ تیزی سے آگے بڑھتے ہوئے اس کا بکس اگلے آدمی کے پاؤں سے ٹکرا گیا۔ وہ پلیٹ فارم پر گر پڑا۔ پیچھے والا آدمی فوراً ٹھہر گیا اور شرمندگی کے ساتھ بولا کہ مجھے معاف کیجیے (excuse me) آگے والے آدمی نے اس کو سنا تو وہ بھی ٹھنڈا پڑ گیا۔ اس نے کہا کوئی حرج نہیں (OK) اور پھر دونوں اٹھ کر اپنی اپنی منزل کی طرف روانہ ہو گئے۔ دوسری صورت یہ ہے کہ اس قسم کی کوئی ناخوش گوار صورت پیش آئے تو دونوں

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader