تعمیر حیات
Urdu book, p. 275
By Maulana Wahiduddin Khan
بگڑ جائیں۔ ایک کہے کہ تم اندھے ہو۔ دوسرا کہے کہ تم بدتمیز ہو تم کو بولنا نہیں آتا، وغیرہ۔ اگر ایسے موقع پر دونوں اس قسم کی بولی بولنے لگیں تو بات بڑھ جائے گی۔ یہاں تک کہ دونوں لڑ پڑیں گے ۔ پہلے اگر ان کے جسم پر مٹی لگ گئی تھی تو اب ان کے جسم سے خون بہے گا۔ پہلے اگر ان کے کپڑے پھٹے تھے تو اب ان کی ہڈیاں توڑی جائیں گی۔ خواہ گھریلو زندگی کا معاملہ ہو یا گھر کے باہر کا معاملہ ہو۔ خواہ ایک قوم کے افراد کا جھگڑا ہو یا دو قوموں کے افراد کا جھگڑا۔ ہر جگہ نرم رویہ اور اعلیٰ ظرفی سے مسئلے ختم ہوتے ہیں اور اس کے برعکس رویہ اختیار کرنے سے مسئلے اور بڑھ جاتے ہیں۔ نرم رویے کا طریقہ گویا آگ پر پانی ڈالنا ہے، اور شدت کا طریقہ گویا آگ پر پٹرول ڈالنا۔ پہلا طریقہ آگ کو بجھاتا ہے اور دوسرا طریقہ آگ کو مزید بھڑکا دیتا ہے۔ دشمن میں دوست ڈاکٹر سید عبد اللطیف (1971-1891) کرنول (دکن) میں پیدا ہوئے۔ وہ اپنے انگریزی ترجمہ قرآن اور دوسری خدمات کی وجہ سے کافی مشہور ہیں۔ وہ مقامی ہائی اسکول میں اپنے والد کی اطلاع کے بغیر داخل ہو گئے تھے۔ والد کو انگریز اور انگریزی تعلیم سے سخت نفرت تھی۔ ان کو معلوم ہوا تو غصہ ہو گئے اور درشت لہجے میں پوچھا کہ انگریزی پڑھ کر کیا کرے گا۔ دبلے پتلے، پست قامت لڑکے نے جواب دیا: انگریزی پڑھ کر قرآن کا ترجمہ انگریزی زبان میں کروں گا۔ 1915 میں انھوں نے بی اے کا امتحان امتیاز کے ساتھ پاس کیا۔ 1920 میں جامعہ عثمانیہ حیدر آباد میں انگریزی کے استاد مقرر ہوئے۔ 1922 میں ان کے لیے نیا تعلیمی موقع پیدا ہوا جب کہ جامعہ عثمانیہ کے چار استادوں کو اعلیٰ تعلیم کے لیے یورپ

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader