Urdu book · تعمیر حیات

خدمت کا کرشمہ

Urdu book, p. 294

By Maulana Wahiduddin Khan

بار برہیں۔ وہ پچھلے دس سال سے مسٹر ملائم سنگھ یادو کی حجامت بناتے رہے ہیں۔ مسٹر یادو پہلے صرف ایک نیتا تھے اب وہ یوپی کے چیف منسٹر ہیں۔ محمد حنیف سلیمان نے مسٹر یادو سے کہا کہ آپ ایک بڑے عہدے پر پہنچ گئے ہیں۔ مجھے لکھنؤ کے بازار حضرت گنج میں ایک دکان دلا دیجیے۔ مسٹر یادو اس پر راضی ہو گئے۔ مگر وہ اس کے بعد اپنے وعدہ کو بھول گئے۔ محمد حنیف سلیمان چند مہینے تک انتظار کرتے رہے۔ اس کے بعد انھوں نے چیف منسٹر کی رہائش گاہ پر جانا چھوڑ دیا۔ مسٹر یادو نے دریافت کرایا تو معلوم ہوا کہ محمد حنیف سلیمان ان کی وعدہ خلافی پر ناراض ہیں اور اس بنا پر ان کے یہاں جانا چھوڑ دیا ہے۔ مسٹر یادو کو جب یہ بات معلوم ہوئی تو انھوں نے اپنے افسروں کو حکم دیا کہ سلیمان کے لیے حضرت گنج میں ایک دکان تلاش کرو۔ افسروں نے حضرت گنج میں دوڑ دھوپ کی تو معلوم ہوا کہ اس علاقے میں کوئی بھی دکان خالی نہیں ہے۔ حضرت گنج میں لکھنؤ ڈیولپمنٹ اتھارٹی کے پاور ڈیپارٹمنٹ کا ایک سرکاری دفتر موجود تھا۔ مسٹر یادو کے حکم پر یہ دفتر خالی کر کے سلیمان کو دے دیا گیا تا کہ وہ وہاں اپنی دکان کھول سکیں۔ رپورٹر کے مطابق اس وقت 1250 لوگ حضرت گنج میں دکان حاصل کرنے کے منتظر ہیں۔ سلیمان نے ان سب پر چھلانگ لگا کر ایک دن میں لکھنؤ کی اہم ترین مارکیٹ میں ایک ایسی دکان حاصل کر لی جس کی قیمت اس وقت پانچ لاکھ روپیہ ہے۔ اب محمد حنیف سلیمان نے اس دکان میں اپنا کام شروع کر دیا ہے۔ اس دکان کے اوپر اس نام کا بورڈ لگا ہوا ہے: بمبئی ہیئر ڈریسر ز (Bombay Hair Dressers)۔ رپورٹر کے ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے سلیمان نے جو کچھ کہا اس کور رپورٹر نے اپنی

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page