Urdu book · تعمیر حیات

تعمیر حیات

Urdu book, p. 44

By Maulana Wahiduddin Khan

آدمی کو چاہیے کہ جب اس کو حاکم بنایا جائے تو وہ فخروناز کی کیفیت میں مبتلا نہ ہو۔ اور جب وہ اپنے آپ کو محکومیت کی حالت میں پائے تو وہ منفی نفسیات کا شکار نہ ہو۔ دونوں حالتوں کو وہ خدائی فیصلے کے طور پر لے۔ دونوں حالتوں میں اس کی نگاہ خود اپنی ذمہ داری کی ادائیگی پر ہو، نہ کہ دوسروں کے صحیح یا غلط رویہ پر۔ یہ ایک عظیم اصلاحی عقیدہ ہے جو لوگوں کو منفی نوعیت کی سیاسی سرگرمیوں سے بچاتا ہے ، وہ لوگوں کو اس قابل بناتا ہے کہ اپنی صلاحیتوں کو ضیاع سے بچائیں۔ اور ہمیشہ مفید اور نتیجہ خیز عمل میں مصروف رہیں ۔ حکومت کا چھننا خدا کی طرف سے ہے۔ اس کے خلاف احتجاج کر نا خدا کے خلاف احتجاج کرنا ہے۔ اور کون ہے جو خدا کے خلاف احتجاج میں کامیاب ہو۔ چیلنج نہ کہ انتقام اسپین میں مسلمانوں کے ساتھ جو کچھ پیش آیا اس کو عام طور پر صلیبی جنگوں کا انتقام بتایا جاتا ہے۔ صلیبی جنگیں تیرھویں صدی کے آخر میں ختم ہوئی تھیں۔ مولانا شبلی نعمانی نے پہلی عالمی جنگ (1914) تک ہونے والے اس قسم کے تمام واقعات کی یہی ایک توجیہ قرار دیتے ہوئے کہا تھا: کہاں تک لو گے ہم سے انتقام فتح ایوبی دکھاؤ گے ہمیں جنگ صلیبی کا سماں کب تک مسلم دانشوروں میں یہی ذہن اب تک باقی ہے۔ چنانچہ فلسطین سے لے کر بوسنیا تک کے تمام واقعات کو دوبارہ وہ اسی انتقامی توجیہہ کے خانہ میں ڈالے ہوئے ہیں۔ مگر یہ توجیہہ قرآن اور قانون فطرت دونوں کے خلاف ہے۔ ابن خلدون کا زمانہ عین وہی تھا جب کہ اسپین میں مسلم سلطنت کا زوال ہوا۔ اس نے اپنے مقدمہ میں تاریخ اور فطرت کا یہ قانون بتایا کہ ہر سلطنت یا ہر عروج یافتہ قوم آخر کار زوال کا شکار ہوتی ہے ( ملاحظہ ہو مقدمہ ابن خلدون کا باب: إِنَّ الدَّوْلَةَ لَهَا أَعْمَارٌ طَبِيعِيَّةٌ كَمَا لِلْأَشْخَاصِ صفحه 72-170)۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page