Urdu book · تعمیر حیات

تعمیر حیات

Urdu book, p. 45

By Maulana Wahiduddin Khan

اصل یہ ہے کہ اس دنیا کا نظام چیلنج کے اصول پر بنایا گیا ہے۔ اس کو قرآن میں کہیں تِلْكَ الْأَيَّامُ نُدَاوِلُهَا بَيْنَ النَّاسِ (3:140)— ہم ان ایام کو لوگوں کے درمیان بدلتے رہتے ہیں — کہا گیا ہے، اور کہیں اس کو بَعْضُكُمْ لِبَعْضٍ عَدُوٌّ (2:36) — تم ایک دوسرے کے دشمن ہوں گے — کے لفظ سے تعبیر کیا گیا ہے۔ یہاں ایک قوم کا ابھرنا دوسری قوم کے لیے چیلنج بنتا ہے۔ اس چیلنج سے مغلوب قوم کی صلاحیتیں جاگتی ہیں۔ وہ اٹھ کر غالب قوم کو زیر کرتی ہے۔ اس طرح غالب اور مغلوب کے درمیان مختلف صورتوں میں مسابقت جاری رہتی ہے۔ یہی مسابقت یا چیلنج تمام انسانی ترقیوں کا واحد زینہ ہے۔ اس عمل کے دوران کبھی ایک قوم گرتی ہے اور کبھی دوسری قوم، تاہم مجموعی اعتبار سے انسانیت کا سفر ترقی کی طرف جاری رہتا ہے۔ مغلوب قوم پیش آمدہ چیلنج کا مقابلہ کرکے دوبارہ غالب آسکتی ہے لیکن فریاد اور احتجاج کا طریقہ اس کو خدا کی دنیا میں کہیں پہنچانے والا نہیں۔ انتقامی توجیہ صرف نفرت کے جذبات ابھارتی ہے۔ اس کے برعکس، فطرت پر مبنی توجیہ آدمی کے اندر یہ جذبہ پیدا کرتی ہے کہ وہ پیش آمدہ چیلنج کا مقابلہ کرے اور اس طرح اپنی کھوئی ہوئی حیثیت کو دوبارہ مزید اضافے کے ساتھ حاصل کرلے۔ دوسروں کی رعایت آپ سڑک پر اپنی گاڑی دوڑارہے ہیں۔ سامنے سے دوسری گاڑی آتی ہوئی نظر آئی۔ اب آپ کے لیے دو صورتیں ہیں۔ ایک یہ کہ آپ پہلے کی طرح بیچ سڑک پر اپنی گاڑی دوڑاتے رہیں۔ دوسرے یہ کہ آپ اپنی گاڑی کو ایک طرف موڑ دیں اور سامنے والی گاڑی کے کنارے سے نکل جائیں۔ ایسے موقع پر آپ کیا کرتے ہیں۔ ایسے موقع پر آپ ہمیشہ یہ کرتے ہیں کہ اپنی گاڑی کنارے کی طرف موڑ دیتے ہیں۔ اگر آپ بدستور اپنی گاڑی سیدھے رخ پر دوڑاتے رہیں تو

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page