Urdu book · تعمیر حیات

فطری طریقہ

Urdu book, p. 47

By Maulana Wahiduddin Khan

گہرائی کے ساتھ دیکھیے تو دیر طلب منصوبوں سے گھبرا کر فوری تدبیروں کی طرف دوڑنا، منزل پر پہنچنے کی مدت کو اور لمبا کرنا ہے۔ دیر طلب منصوبہ تو بہر حال ایک وقت پر مکمل ہو جاتا ہے۔ مگر مختصر راستوں پر دوڑنا صرف وقت ضائع کرنا ہے۔ کیوں کہ ایسے راستے کبھی اپنے مسافر کو منزل تک نہیں پہنچاتے۔ جو شخص درخت کی بڑی بڑی شاखों کو گاڑ کر آنا فانا اپنے سامنے ایک ہرا بھر اباغ دیکھنا چاہتا ہو، اس کو پودے لگا کر باغبانی کا طریقہ بتائیے تو اس کی سمجھ میں اس قسم کی شجر کاری کبھی نہیں آئے گی۔ وہ کہے گا کہ یہ تو بہت لمبا منصوبہ ہے۔ حالاں کہ اگر مستقبل کے لحاظ سے دیکھیے تو خود اسی کا منصوبہ غیر متناہی طور پر لمبا ہے۔ کیوں کہ شاخیں گاڑنے والے کو تو ہزار سال میں بھی باغ دیکھنا نصیب نہیں ہوسکتا۔ جب کہ پودے لگانے والے کے لیے بہر حال ایک ایسا وقت آتا ہے جبکہ وہ ہرے بھرے باغ کا مالک بن جائے، خواہ یہ وقت ۲۵ برس بعد آئے یا پچاس برس بعد۔ جس طرح باغبانی میں کوئی شارٹ کٹ نہیں، اسی طرح زندگی کی تعمیر میں بھی کوئی شارٹ کٹ نہیں۔ یہ کام بہر حال طویل المدت منصوبہ ہی کے ذریعہ ہوگا۔ خواہ ہم اس کو آج شروع کریں، یا آج کے بہت دنوں بعد اس وقت شروع کریں جب کہ کام کا پہلا قیمتی موقع ہمارے ہاتھ سے نکل گیا ہو۔ فطرت کا یہ طریقہ کسی انسان کا بنایا ہوا نہیں ہے۔ وہ خود خدا کا بنایا ہوا ہے جس خدا نے دنیا کو بنایا ہے اسی نے اس کے لیے یہ قانون بھی وضع کیا ہے۔ انسان جس طرح اپنے رہنے کے لیے کوئی اور دنیا پیدا نہیں کر سکتا، اسی طرح اس کے لیے ناممکن ہے کہ وہ اپنے لیے کوئی اور قانون وضع کر سکے۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page