Urdu book · تعمیر حیات

فطرت کے خلاف

Urdu book, p. 48

By Maulana Wahiduddin Khan

فطرت کے خلاف شری گرو گولواکر آرایس ایس کے دماغ سمجھے جاتے ہیں۔ انھوں نے یکساں سول کوڈ کے تصور کی مکمل مخالفت کی ہے۔ ان کی یہ مخالفت مذہب کی بنیاد پر نہیں ہے بلکہ فطرت کی بنیاد پر ہے۔ ان کا کہنا یہ ہے کہ یکساں سول کوڈ دوسرے سے قابل عمل ہی نہیں ۔ اور اس کی وجہ یہ ہے کہ یہ ایک غیر فطری اسکیم ہے۔ انھوں نے کہا کہ فطرت یکسانیت سے نفرت کرتی ہے: Nature abhors uniformity اس بات کا تعلق صرف یکساں سول کوڈ سے نہیں ہے بلکہ پوری زندگی سے ہے۔ زندگی کا نظام پورا کا پورا فطرت کے اصولوں پر قائم ہے۔ یہ فطری اصول خود اپنے زور پر قائم ہیں اور وہ اب تک قائم رہیں گے۔ کسی بھی شخص یا حکومت کے لیے صرف یہ موقع ہے کہ وہ فطرت سے موافقت کرے۔ وہ کسی بھی حال میں اس سے لڑ نہیں سکتا۔ فطرت سے لڑنا ایسا ہی ہے جیسے بھونچال سے لڑنا، اور کون ہے جو بھونچال سے لڑ کر کامیابی کی امید کر سکے۔ تاریخ میں بار بار ایسا ہوا ہے کہ کسی شخص یا گروہ کو اقتدار مل گیا تو اس نے سمجھا کہ ہم جو چاہیں کر سکتے ہیں۔ اس بھرم کے تحت انھوں نے بڑے بڑے اقدامات شروع کر دیے۔ انھوں نے چاہا کہ زندگی کے مروجہ نقشہ کو توڑ کر خود اپنی پسند کے مطابق اس کا ایک نقشہ بنائیں ۔ مگر تاریخ بتاتی ہے کہ ایسی ہر طاقت کے حصے میں صرف ناکامی آئی۔ فطرت کا نظام جس طرح پہلے قائم تھا اسی طرح وہ بعد کو بھی قائم رہا۔ چنگیز خان سے لے کر نادر خان تک، اور ہٹلر سے لے کر اسٹالن تک، اور پھر موجودہ زمانے کے آمروں اور ڈکٹیٹروں تک ہر ایک اسی کا مصداق ثابت ہوئے ہیں۔ اس معاملے میں پوری تاریخ انسانی میں کسی کا کوئی استثناء نہیں۔ انھیں فطری اصولوں میں سے ایک اصول یہ ہے کہ اس دنیا میں امن کے لیے بقا ہے

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page