تعمیر حیات
Urdu book, p. 49
By Maulana Wahiduddin Khan
جنگ کے لیے بقا نہیں۔ یہاں عدل کو جمائو ملتا ہے ظلم کو نہیں۔ یہاں تواضع کو جگہ ملتی ہے گھمنڈ کو نہیں۔ یہ دنیا فراخدلی کو قبول کرتی ہے تنگ نظری کو نہیں۔ یہ فطرت کا اٹل قانون ہے۔ اس قانون سے کسی کا ٹکرانا ایسا ہی ہے جیسے کہ وہ پتھر کی چٹان سے اپنا سر ٹکرانے لگے۔ بیانِ حقیقت ایک صورت یہ ہے کہ آپ اپنی بات کو دلیل سے ثابت کریں۔ دوسری صورت یہ ہے کہ اس کو سادہ طور پر بلا دلیل بیان کریں ۔ انگریزی کا ایک مثل ہے کہ ایک واضح بیان مضبوط ترین استدلال ہے: A clear statement is an argument in itself. جو لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی احادیث کا مطالعہ کرتے ہیں وہ جانتے ہیں کہ بہت سی حدیثوں میں یہی دوسرا انداز اختیار کیا گیا ہے۔ اس کے باوجود وہ اتنی مؤثر ہیں کہ انھوں نے کروروں لوگوں کے اندر انقلاب پیدا کر دیا۔ اس کی وجہ کیا ہے کہ ایک واضح بیان سننے والے کے لیے بذاتِ خود دلیل بن جاتا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ایسے ایک بیان کے ساتھ فطرت خود اضافہ کر کے اس کو مکمل کر لیتی ہے۔ دلیل کی کمی انسان کی فطرت خود پورا کر لیتی ہے۔ تمام حقیکتیں انسان کی فطرت کے اندر موجود ہیں۔ وہ انسان کے لاشعور میں پیدائشی طور پر رکھ دی گئی ہیں۔ آدمی جب کسی حقیقت کو مانتا ہے تو وہ اس کو اس لیے مانتا ہے کہ وہ اس کی پیدائشی معرفت کے ساتھ مطابقت کر رہی ہے۔ ایک بیان جب سننے والے کی اپنی فطرت کے ساتھ مطابقت کر رہا ہو تو اُس کے بعد اس کی حاجت نہیں رہتی کہ اس کو ثابت کرنے کے لیے دلیل و برہان پیش کی جائے۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader