تعمیر حیات
Urdu book, p. 55
By Maulana Wahiduddin Khan
یہ بات ہو رہی تھی کہ ایک طرف سے آواز آئی کہ میں نے دروازہ کھٹکھٹایا تھا۔ ماما نے پوچھا کہ تم کون ہو۔ اس نے کہا کہ میں چور ہوں۔ ماما نے دوبارہ کہا کہ جب تم چور ہو تو دروازہ کھلنے کے بعد اندر گھس کر اپنا کام کیوں نہیں کیا۔ چور نے کہا کہ اصل یہ ہے کہ جب لڑکی نے اندر سے پوچھا کہ ماما۔ تو میں نے کہہ دیا کہ ہاں۔ یہ کہہ کر میں نے آپ کولڑکی کا ماما بنا دیا۔ اور ماما کبھی کسی بھا نجی کے گھر میں چوری نہیں کرسکتا۔ اختلاف اختلاف ایک پرچہ امتحان ہے۔ کسی سے آپ کا اختلاف پیدا ہوجائے تو سمجھ لیجیے کہ اللہ نے آپ کو ایک نازک آزمائش میں ڈال دیا تاکہ یہ جانے کہ آپ سچے مومن ہیں یا سچے مومن نہیں ہیں۔ اختلاف کو اختلاف کے دائرے میں رکھنا سچے اہلِ ایمان کا طریقہ ہے۔ جو لوگ اختلاف کو تخریب کاری کے درجہ تک پہنچادیں وہ بلاشبہ ایمان و اسلام سے نکل گئے۔ آدمی جب اختلاف کو اختلاف کے دائرے میں رکھے تو اس کا امکان ہوتا ہے کہ تبادلہ خیال کے دوران دونوں میں سے کسی کے اوپر سچائی کھل جائے اور اس طرح جو بھٹکے ہوئے مسافر کی مانند تھا وہ دوبارہ صحیح راستہ پر آجاۓ۔ مگر جب ایک آدمی اختلاف کو تخریب کاری تک پہنچادے تو اس کے بعد گمراہی کے گڑھے میں گرنے کے سوا کوئی انجام اس کے لیے باقی نہیں رہتا۔ ایسے آدمی کا دماغ منفی سوچ کا کارخانہ بن جاتا ہے۔ وہ دلیل اور الزام تراشی کے فرق کو سمجھنے کی اہمیت کھو دیتا ہے۔ وہ منصفانہ اختلاف کی حد سے گزر کر ظالمانہ اختلاف کے دائرے میں داخل ہو جاتا ہے۔ وہ خدا کی پکڑ کے احساس سے غافل ہو جاتا ہے۔ وہ صرف اپنی انا کورہنما بنالیتا ہے۔ اب اس کا مقصد حق کو قائم کرنا نہیں ہوتا بلکہ صرف اپنی ذات کو قائم کرنا اس کا اول و آخر مقصد بن جاتا ہے۔ وہ خدا کی رحمت سے دور ہو کر پوری طرح شیطان کی گرفت میں آجاتا ہے۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader