Urdu book · تعمیر حیات

تعمیر حیات

Urdu book, p. 57

By Maulana Wahiduddin Khan

وقت وہ دوسروں کے لیے خاموش ہوتا ہے مگر اپنے لیے خاموش نہیں ہوتا۔ وہ خارجی دنیا کی طرف سے خاموش ہو کر اپنی داخلی دنیا سے ہم کلام ہو جاتا ہے۔ چپ رہنا ایک عظیم عمل ہے۔ جب آدمی چپ رہتا ہے تو وہ زمین کی باتوں سے زیادہ آسمان کی باتوں پر دھیان دے رہا ہوتا ہے۔ وہ انسان سے زیادہ فرشتوں کی سرگوشیوں پر کان لگائے ہوئے ہوتا ہے۔ وہ دوسروں سے زیادہ خود اپنی بات کی طرف متوجہ رہتا ہے۔ وہ سطحی اور ظاہری باتوں سے زیادہ گہری حقیقتوں کی دریافت میں مشغول ہوتا ہے۔ آدمی جب بولتا ہے تو وہ محدود دنیا میں ہوتا ہے، آدمی جب چپ رہتا ہے تو وہ لامحدود دنیا کی وسعتوں میں پہنچ جاتا ہے۔ تباہی کا آغاز ایوری پیڈیز (Euripides) قدیم ایتھنز کا مشہور المیہ نگار شاعر ہے۔ وہ 484 ق م میں پیدا ہوا، اور کم عمری میں 506 ق م میں اس کی وفات ہوگئی۔ اس کے ایک قول کا ترجمہ اس طرح کیا گیا ہے کہ خدا جس کو تباہ کرنا چاہتا ہے سب سے پہلے اس کو دیوانہ بنا دیتا ہے: Whom God wishes to destroy, he first makes him mad یہ بات نہایت درست ہے۔ اس کو دوسرے لفظوں میں اس طرح کہہ سکتے ہیں کہ جب کسی شخص یا قوم پر زوال آتا ہے تو اس کی سوچنے سمجھنے کی صلاحیت بگڑ جاتی ہے، اور جب سوچنے کی صلاحیت بگڑتی ہے تو اس کے اقدامات بھی غلط ہو جاتے ہیں۔ اور جو لوگ غلط اقدامات کرنے لگیں ان کو پھر کوئی چیز تباہی سے نہیں بچا سکتی۔ سوچ سمجھ کا بگڑنا کیا ہے۔ وہ یہ ہے کہ آدمی عقل کی روشنی میں رائے قائم کرنے کے بجائے جذبات کے تحت رائے قائم کرنے لگے۔ وہ اپنی زندگی کا منصوبہ حقائق کی رعایت

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page