تعمیر حیات
Urdu book, p. 63
By Maulana Wahiduddin Khan
مایوس نہ ہو۔ وہ ناکامی کے بعد کبھی بدلی کا شکار نہ ہو، خواہ اس کی ناکامی بظاہر کتنی ہی زیادہ بڑی کیوں نہ ہو۔ یہ دنیا ہارنے کے بعد جیتنے اور جیتنے کے بعد ہارنے کا کھیل ہے۔ اس دنیا میں کامیاب کھلاڑی وہ ہے جو کھیل پر نظر رکھے، نہ کہ ہار اور جیت میں کھو کر رہ جائے۔ شکست وقتی حادثہ ہے، شکست مستقل بربادی نہیں۔ شکست آپ کو باہر کی چیزوں سے محروم کرتی ہے۔ وہ آپ کے اندر کی چیزوں کو آپ سے نہیں چھینتی۔ آپ اپنے اندر کی چیزوں کو لے کر دوبارہ نئی کامیابی حاصل کر سکتے ہیں۔ خاتمہ نہیں مواقع نکل جاتے ہیں، مگر مواقع ختم نہیں ہوتے۔ یہ موجودہ دنیا کا ایک ایسا سبق ہے جو گویا ہر ذرہ اور ہر پتی سے روزانہ نشر کیا جا رہا ہے۔ ہماری دنیا کو کسی انسان نے نہیں بنایا ہے بلکہ خدا نے بنایا ہے جس کی طاقتیں لامودود ہیں۔ دنیا کو بنانے والا اگر انسان ہوتا تو اس کے امکانات محدود ہوتے۔ مگر جب لامحدود خدا نے اس کو بنایا ہے تو اس کے امکانات اور مواقع بھی لامحدود ہیں۔ کتنے ہی مواقع آپ کے ہاتھ سے نکل جائیں۔ کتنے ہی زیادہ امکانات کو آپ کھودیں، پھر بھی آپ کو مایوس ہونے کی ضرورت نہیں۔ کیوں کہ ہمیشہ مزید امکانات اور مواقع آپ کے لیے موجود ہوں گے جن کو استعمال کر کے آپ اپنا مستقبل تعمیر کر سکیں۔ جب مواقع ختم ہونے والے نہ ہوں تو مواقع سے نکل جانے پر افسوس کرنا صرف بے خبر آدمی کا کام ہو سکتا ہے۔ جب ایک سواری چھوٹ کر دوسری سواری ملنے والی ہو تو مسافر اس سواری کا غم نہیں کرتا جو چلی گئی، بلکہ اگلی سواری کا انتظار کرتا ہے تا کہ اس میں بیٹھ کر اپنا سفر جاری کر سکے۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader