Urdu book · تعمیر حیات

تعمیر حیات

Urdu book, p. 64

By Maulana Wahiduddin Khan

موجودہ دنیا میں اصل اہمیت کی بات یہ نہیں ہے کہ ایک آیا ہوا موقع آپ کے ہاتھ سے نکل گیا۔ اصل اہمیت کی بات یہ ہے کہ دوسرے موقع جوابھی باقی ہیں ، ان کو آپ نے پہچانا یا نہیں اور ان کو استعمال کر کے دوبارہ اپنی زندگی کو کامیاب بنانے کا جذ بہ آپ کے اندر جاگا یا نہیں۔ اگر یہ دوسری بات حاصل ہو جائے تو پہلی بات کی پروا کرنے کی کوئی ضرورت نہیں۔ زندگی نام ہے ایک موقع کو کھو کر دوسرے موقع کو استعمال کرنے کا۔ اسی طرح دوسرے کامیاب ہونے والوں نے کامیابی حاصل کی ہے۔ اور اسی طرح آپ بھی کامیابی حاصل کر سکتے ہیں۔ کامیابی کا اس کے سوا کوئی طریقہ نہ دوسروں کے لیے ہے اور نہ آپ کے لیے۔ یہ قادر مطلق کی شان کے خلاف ہے کہ وہ ایسی دنیا بنائے جہاں موقع اتنے کم ہوں کہ ایک موقع نکل جانے کے بعد دوسرا موقع آدمی کے لیے باقی نہ رہے۔ صبر بہادری ہے صبر بہادری ہے، اور بے صبری بزدلی۔ جو لوگ صبر کرنے پر تیار نہ ہوں انہیں آخر کار بزدل بن کر اس دنیا میں رہنا پڑے گا۔ اور بزدلی کا دوسرا نام منافقت ہے جس سے زیادہ بری اخلاقی صفت اور کوئی نہیں۔ موجودہ دنیا میں خود فطری نظام کے تحت بار بار ایسا ہوتا ہے کہ ایک انسان کو دوسرے انسان سے شکایت پیدا ہوتی ہے۔ ایک انسان کو دوسرے انسان سے کوئی ذہنی یا جسمانی تکلیف پہنچتی ہے یہ ایک لازمی صورت حال ہے۔ یہ معاملہ انسانی زندگی کے آغاز ہی میں ہابیل اور قابیل کے ٹکراؤ کی صورت میں پیدا ہوا۔ اس کے بعد وہ تاریخ کے ہر دور میں ، جنتی کہ پیغمبروں کے زمانے میں بھی جاری رہا ، وہ اسی طرح جاری رہے گا یہاں تک کہ قیامت آجائے اور خود اس دنیا ہی کا خاتمہ ہو جائے۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page