Urdu book · تعمیر حیات

صبر ۔ بہادری ہے

Urdu book, p. 65

By Maulana Wahiduddin Khan

ایسی حالت میں کسی بھی انسان کے بس میں نہیں کہ وہ اپنی پسند کے عین مطابق ایسی زندگی حاصل کرلے جہاں اس کو نہ کسی سے شکایت ہو اور نہ کسی سے اختلاف۔ ایسا انتخاب موجودہ دنیا میں کسی کے لیے ممکن ہی نہیں، نہ صالحین کے لیے اور نہ غیر صالحین کے لیے۔ موجودہ دنیا میں حقیقی انتخاب صرف دو روش کے درمیان ہے۔ آپ یا تو گھر سے باہر تک ہرایک سے مسلسل لڑتے رہیں، یا شکایت واختلاف کو نظرانداز کرتے ہوئے اپنی زندگی کی تعمیر کریں۔ پہلی روش اگر پھول کے درخت میں اس کے کانٹوں سے الجھنے کا نام ہے تو اس کے مقابلے میں دوسری روش یہ ہے کہ کانٹے کو نظرانداز کرتے ہوئے اس پھول کو لیا جائے۔ مگر پہلی روش کسی کے لیے بھی مستقل طور پر ممکن نہیں کیوں کہ وہ اپنی اور اپنے گھر کی تباہی کے ہم معنی ہے۔ اور کوئی بھی اتنا نادان نہیں کہ وہ مستقل طور پر اپنے آپ کو اور اپنے گھر والوں کو تباہی کے گڑھے میں ڈال دے۔ اس لیے عملاً یہ ہوتا ہے کہ بے صبری کی روش اختیار کرنے والے وقتی طور پر دوسروں سے لڑتے ہیں اور آخرکار اس کا تباہ کن نتیجہ دیکھ کر خاموشی اختیار کرلیتے ہیں مگر ایسی خاموشی کا مطلب منافقت ہوتا ہے۔ موجودہ دنیا میں آپ کو بہر حال صبر کرنا ہے۔ اگر آپ اصول کی بنیاد پر صبر نہ کریں تو آپ کو مفاد کی بنیاد پر صبر کرنا پڑے گا اور اسی دوسری روش کا نام منافقت ہے۔ ایک حقیقت جو شخص ایک معاملے میں غلط ثابت ہو وہ ہر معاملے میں غلط ہے۔ اس میں صرف اس آدمی کا استثناء ہے جو غلطی کرنے کے بعد شرمندہ ہو اور کھلے دل سے اپنی غلطی کا اعتراف کرے۔ یہ ایک نفسیاتی اصول اور زندگی کی ایک اٹل حقیقت ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ انسان اپنے پورے وجود کے ساتھ ایک گل ہے۔ انسان سے کسی غلطی کا سرزد ہونا ایسا ہی ہے جیسے

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page