تعمیر حیات
Urdu book, p. 71
By Maulana Wahiduddin Khan
امکان کھونے کے بعد آدمی دوسرا امکان پا لیتا ہے جس کو استعمال کر کے وہ آگے بڑھ جائے۔ موجودہ دنیا میں کوئی آدمی نقصان سے بچ نہیں سکتا۔ یہاں بڑے کو بھی نقصان اٹھانا پڑتا ہے اور چھوٹے کو بھی۔ یہاں طاقت ور بھی نقصان اٹھاتا ہے اور کمزور بھی۔ اس لیے آپ کبھی نقصان پر بددل نہ ہوں ۔ ہر بار گرنے کے بعد دوبارہ اٹھنے کی کوشش کیجیے ۔ زمانے کا سفر ماضی اور حال پر ختم نہیں ہوتا۔ وہ ہمیشہ مستقبل کی طرف جاری رہتا ہے۔ اگر ماضی اور حال کا سرا آپ سے چھوٹ گیا ہو تو آپ مستقبل کا سرا پکڑ لیجیے ۔ آپ دوبارہ کامیابی کی منزل پر پہنچ جائیں گے ۔ دشواریاں زینہ ہیں انسان قدرت کا چھپا ہوا خزانہ ہے۔ مشکلات کی ٹھوکریں اس خزانہ کو اندر سے باہر لے آتی ہیں ۔ پوری تاریخ کا تجربہ ہے کہ وہی لوگ سب سے زیادہ ابھرے جنھیں سب سے زیادہ دشواریوں کا سامنا کرنا پڑا۔ بیج جب پھٹتا ہے تو اس کے اندر سے عظیم درخت برآمد ہوتا ہے۔ یہی انسان کی شخصیت کا حال بھی ہے۔ انسان کی شخصیت پر جب حالات کا دباؤ پڑتا ہے تو اس کی اندرونی صلاحیتیں ابھرتی ہیں۔ جو چیز پہلے ”بیج“ کے روپ میں چھپی ہوئی تھی، وہ ”درخت“ کی صورت میں ظاہر ہو جاتی ہے۔ انسان دو قسم کے ہوتے ہیں۔ ایک وہ جو مشکل کو صرف مشکل سمجھیں۔ دوسرے وہ جو مشکل کو چیلنج کی نظر سے دیکھیں۔ مشکل کو مشکل سمجھنا مایوسی کا ذہن پیدا کرتا ہے۔ اور مشکل کو چیلنج سمجھنے سے یہ ذہن پیدا ہوتا ہے کہ اس کا سامنا کیا جائے۔ اگر آپ مشکل کو صرف مشکل سمجھیں تو آپ کی موجود صلاحیتیں بھی مرجھا جائیں گی۔ آپ

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader