تعمیر حیات
Urdu book, p. 72
By Maulana Wahiduddin Khan
کی سوچنے کی طاقت مفلوج ہو جائے گی۔ مگر جب آپ مشکل کو چیلنج سمجھیں تو آپ کے اندر نئی ہمت جاگتی ہے۔ آپ کا ذہن پہلے سے زیادہ کام کرنے لگتا ہے۔ آپ کوئی نئی تدبیریں سجھتی ہیں جن کو استعمال کر کے آپ آگے بڑھ سکیں۔ جس آدمی کو صرف آسانیاں پیش آئیں وہ محدود ہو کر رہ جاتا ہے۔ اس کی فکر میں سطحیات آجاتی ہے۔ مگر جس آدمی کو مصیبتوں اور دشواریوں کا سامنا کرنا پڑے وہ لا محدود انسان بن جاتا ہے۔ اس کی سوچ میں گہرائی پیدا ہو جاتی ہے۔ دشواری ایک معلم ہے۔ دشواری سے آدمی ان باتوں کو جان لیتا ہے جن کو کسی درس گاہ میں پڑھایا نہیں جا سکتا۔ دشواری آدمی کے علم میں تجربہ کا اضافہ کرتی ہے۔ دشواری آدمی کی سنی یا پڑھی ہوئی بات کو اس کی ذاتی دریافت بنا دیتی ہے۔ زندگی کی دشواریاں زندگی کے زینے ہیں۔ وہ اس لیے ہیں تا کہ آپ کو نیچے سے اوپر لے جائیں۔ تا کہ وہ آپ کے چھپے ہوئے خزانہ کا آپ کو مالک بنا دیں۔ اپنی ذات جو شخص اپنے آپ پر فتح حاصل کرلے، اس کے لیے دوسروں پر فتح حاصل کرنا کچھ مشکل نہیں ۔ آدمی اپنی قسمت آپ بناتا ہے۔ اپنی کمزوریوں پر غالب آنے کا نام کامیابی ہے اور اپنی کمزوریوں سے مغلوب ہو جانے کا نام ناکامی۔ ایک شخص کے اندر خود پسندی ہو تو اس کے گرد خوشامدی قسم کے لوگ جمع ہو جائیں گے ۔ اور خوشامدی لوگ بلاشبہ کسی آدمی کا سب سے زیادہ بڑا سرمایہ ہیں۔ ایک شخص عجلت پسند ہو تو وہ ایسے موقع پر گھبرا اٹھے گا جب کہ اسے آنے والے وقت کا انتظار کرنا چاہیے، نتیجہ یہ ہوگا کہ وہ غیر ضروری طور پر آنے والی کامیابی سے محروم ہو جائے گا۔ ایک شخص صرف اپنے

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader