Urdu book · تعمیر حیات

تعمیر حیات

Urdu book, p. 73

By Maulana Wahiduddin Khan

آپ کو جانتا ہو تو لوگوں کے ساتھ درست معاملہ نہ کر سکے گا، جب کہ لوگوں کے درمیان کامیاب زندگی گزارنے کے لیے لوگوں کے ساتھ درست معاملہ کرنا ضروری ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ کامیابی کے اسباب آدمی کے اپنے اندر ہوتے ہیں۔ اسی طرح ناکامی کے اسباب بھی خود آدمی کے اندر ہی پائے جاتے ہیں۔ آدمی کو چاہیے کہ سب سے پہلے وہ اپنا جائزہ لے۔ ہر پسپائی کا سبب خود اپنے اندر تلاش کرے۔ جو چیز آپ کے اندر ہو اس کو آپ باہر تلاش کر کے نہیں پا سکتے۔ جو نتیجہ اپنے آپ پر عمل کر کے ملتا ہو، اس کو آپ دوسروں پر زور آزمائی کر کے حاصل نہیں کر سکتے۔ آدمی کے اندر بیک وقت دو قسم کی صلاحیتیں ہیں۔ اس کے اندر اعتراف کا مادہ ہے اور اسی کے ساتھ بے اعترافی کی خواہش بھی۔ اس کے اندر شکر کا جذبہ بھی ہے اور ناشکری کی نفسیات بھی۔ اس کے اندر تواضع کا مزاج بھی ہے اور گھمنڈ کا مزاج بھی۔ اس کے اندر امانت داری کا مادہ بھی ہے اور حق تلفی کا مادہ بھی۔ وہ دوسرے کی ترقی پر خوش ہونا بھی جانتا ہے اور دوسرے کی ترقی پر حسد کرنا بھی۔ اس دنیا میں جیت اس کے لیے ہے جو اپنے اندر کی بری خواہشوں کے مقابلے میں جیت حاصل کرے۔ اور ہار اس کے لیے ہے جو اپنے اندر کی بری خواہشوں کے مقابلے میں ہار جائے۔ استقلال فارسی کا مثل ہے کہ یک در گیر و محکم گیر۔ یعنی ایک در کو پکڑو اور وہیں مضبوطی کے ساتھ جمے رہو۔ یہ فطرت کا ایک قانون ہے جس کا تعلق زندگی کے ہر شعبے سے ہے۔ آپ ایک پودا زمین میں لگائیں، اور اس کے بعد ہر روز اس کی جگہ بدلتے رہیں تو ایسا پودا کبھی بڑا درخت نہیں بن سکتا۔ ہر بار جب آپ اس کو کھود کر نکالیں گے تو اس کی کچھ جڑیں کٹ جائیں گی۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page