Urdu book · تعمیر حیات

دو قسم کے انسان

Urdu book, p. 75

By Maulana Wahiduddin Khan

دو قسم کے انسان منفی نفسیات میں جینے والا انسان تاریخ کا معمول ہوتا ہے، اور ایجابی نفسیات میں جینے والا انسان تاریخ کا عامل ــ اول الذکر انسان کو تاریخ کے حالات بناتے ہیں۔ ثانی الذکر انسان وہ ہے جو حالات سے اوپر اٹھ کر سوچتا ہے، وہ خود ایک نئی تاریخ بناتا ہے۔ دنیا میں ہمیشہ ناخوشگوار حالات ہوتے ہیں۔ ہمیشہ ایسے اسباب پیش آتے ہیں کہ ایک کو دوسرے سے شکایت پیدا ہو۔ ایسے موقع پر جو لوگ ردعمل کی نفسیات میں مبتلا ہو جائیں، وہ گویا تاریخ کا معمول بن گئے۔ وہ اپنے آس پاس کے حالات کا شکار ہو کر رہ گئے۔ ایسے لوگ ہمیشہ احتجاجی کارروائیوں میں مشغول رہتے ہیں۔ وہ کوئی مثبت کارنامہ انجام نہیں دے سکتے۔ اس کے برعکس انسان وہ ہے جو حالات سے اوپر اٹھ کر سوچے ۔ جو ردعمل کے بغیر خود اپنی آزادانہ سوچ کے تحت اپنی رائے بنائے ۔ ایسا انسان گویا تاریخ کے اوپر ہے۔ وہ اس حیثیت میں ہے کہ دنیا سے متاثر ہونے کے بجائے خود دنیا کی صورت گری کرے۔ وہ تاریخ کا عامل بن جائے۔ تمام حیوانات تاریخ کی پیداوار ہیں۔ مگر انسان کا مقام یہ ہے کہ وہ اپنی جد وجہد سے تاریخ بنائے ۔ وہ خود اپنی ذات سے تاریخ ساز بن جائے۔ منفی نفسیات کسی انسان کے لیے قاتل کی حیثیت رکھتی ہیں۔ جو آدمی منفی نفسیات میں مبتلا ہو، وہ گویا اپنے حالات کے ہاتھوں قتل ہو گیا۔ اس کے برعکس جو شخص اپنے آپ کو منفی رجحانات اور رد عمل کی نفسیات سے بچائے، وہ گویا خارجی دنیا کے حملوں کے باوجود زندہ رہا۔ اس نے اپنی ہستی کو فنا ہونے سے بچا لیا۔ منفی نفسیات کی بنیاد آدمی کے باہر ہوتی ہے، اور مثبت نفسیات کی بنیاد آدمی کے اندر۔ منفی نفسیات والا انسان دوسروں کے اوپر کھڑا ہوتا ہے، اور مثبت نفسیات والا انسان خود اپنی

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page