دو قسم کے انسان
Urdu book, p. 76
By Maulana Wahiduddin Khan
ذات پر۔ یہی واقعہ یہ بتانے کے لیے کافی ہے کہ دونوں میں سے کون ہے جس کو اعلیٰ انسان کا لقب دیا جاسکے۔ سب سے زیادہ محروم اور نادان وہ شخص ہے جس کے لیے اس دنیا میں عامل بننے کا موقع تھا، اس کے باوجود وہ صرف معمول بن کر رہ گیا۔ سب سے مشکل، سب سے آسان ”تم نے غلطی کی“ اور ”میں نے غلطی کی“، ان دونوں جملوں میں ظاہر کے اعتبار سے صرف ایک لفظ کا فرق ہے۔ مگر حقیقت کے اعتبار سے دونوں میں اتنا زیادہ فرق ہے کہ پہلا جملہ کہنے والے کروڑوں انسان دنیا میں موجود ہیں، مگر دوسرا جملہ کہنے والا شاید کوئی ایک شخص بھی نہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ پہلا جملہ دوسرے شخص کی نفی کرتا ہے اور دوسرا جملہ خود قائل کی نفی کرتا ہے۔ اور دوسرے کی نفی کرنا بلا شبہ سب سے زیادہ آسان کام ہے، اور اپنی نفی کرنا بلا شبہ سب سے زیادہ مشکل کام۔ موجودہ زمانے کی وہ تمام تحریکیں جن کے گرد انسانوں کی بھیڑ دکھائی دیتی ہے، وہ سب وہی تحریکیں ہیں جو ”تم نے غلطی کی“ کے نعرہ پر اٹھیں۔ تمام مقبول تحریکوں اور تمام بڑے بڑے لیڈروں کی مقبولیت کا واحد راز یہ ہے کہ وہ باہر سے کسی شخص یا قوم کو غلط ثابت کرنے کے لیے اٹھے۔ اگر وہ خود اپنی نفی کرنے کا پیغام لے کر اٹھتے تو وہ اپنے ماحول میں اجنبی بن جاتے، نہ یہ کہ ان کے گرد انسانوں کی بھیڑ اکٹھا ہو۔ ”تم نے غلطی کی“ ایک جھوٹا کلمہ ہے، اور ”میں نے غلطی کی“ ایک سچا کلمہ۔ خدا کا قانون یہ ہے کہ اس دنیا میں جھوٹا کلمہ جڑ نہ پکڑ سکے، وہ جھاڑ جھنکاڑ بن کر رہ جائے۔ اس کے برعکس جو کہ سچا کلمہ ہو، وہ خدا کی اس دنیا میں جڑ پکڑتا ہے۔ وہ زمین میں بھی اپنی جگہ حاصل کرتا ہے اور آسمان کی وسعتوں میں بھی۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader