تعمیر حیات
Urdu book, p. 77
By Maulana Wahiduddin Khan
”میں نے غلطی کی“ معرفت کا کلمہ ہے۔ وہ آدمی کی شخصیت میں ارتقاء پیدا کرتا ہے۔ وہ آدمی کو ادنی حالت سے اعلی حالت کی طرف لے جاتا ہے۔ اس کے برعکس ”تم نے غلطی کی“ ایک سطحی کلمہ ہے۔ وہ آدمی کو گہرے معانی سے آشنا نہیں کرتا۔ وہ آدمی کو ایک ایسے کام میں مشغول کر دیتا ہے جو سرے سے کرنے کا کوئی کام ہی نہیں۔ ”میں نے غلطی کی“ اصلاح ہے اور ”تم نے غلطی کی“ تخریب۔ ”میں نے غلطی کی“ خدا پرستی ہے اور ”تم نے غلطی کی“ نفس پرستی۔ ”میں نے غلطی کی“ ایک نیکی ہے اور ”تم نے غلطی کی“ صرف لیڈری” میں نے غلطی کی“ دینداری ہے اور ”تم نے غلطی کی“ دنیا داری۔ نقصان میں فائدہ دنیا کا نظام اس طرح بنایا گیا ہے کہ یہاں نقصان میں بھی فائدہ ہے۔ یہاں منفی واقعے میں بھی مثبت پہلو چھپے ہوئے ہیں، اس کی ایک انوکھی مثال حال میں سامنے آتی ہے۔ انسان کے سر میں چوٹ لگنا بظاہر ایک بھیانک واقعہ ہے۔ امریکہ میں ہر قسم کی باتوں پر ریسرچ ہوتی رہتی ہے۔ کچھ ماہرین نے اس پر ریسرچ کی تو معلوم ہوا کہ چوٹ اگر قابل برداشت دائرے میں ہو تو وہ انسانی دماغ کو متحرک کر کے اس کے اندر نئی زندگی پیدا کر دیتی ہے۔ جب دماغ کو کوئی صدمہ پہنچتا ہے تو وہ اس کی صلاحیتوں کو جگا دیتا ہے۔ دماغی خلل کی ایک انوکھی قسم جو دماغ کے بعض عمل کے لیے نقصان کا باعث ہوتی ہے وہ فنکارانہ صلاحیت میں اضافے کا باعث بھی ہوسکتی ہے۔ یہ بات ایک حالیہ مطالعہ سے معلوم ہوئی ہے۔ دماغ کے ایک حصہ کو صدمہ پہنچنا بعض دوسرے دماغی عمل کو زندہ کر سکتا ہے۔ یہ بات امریکی ڈاکٹر بروس ملر (Bruce Miller) نے بتائی جو امریکہ کی کیلیفورنیا یونیورسٹی میں ماہر علم الاعصاب کے طور پر کام کر رہے ہیں۔ وہ اس تحقیقی ٹیم کے ناظم تھے جس نے اس موضوع کا علمی سروے کیا۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader