Urdu book · تعمیر حیات

تعمیر حیات

Urdu book, p. 79

By Maulana Wahiduddin Khan

کہ چشمہ جدھر بہہ کر جارہا ہے اس کے عین آگے افقی دائرے میں پھیلی ہوئی ایک چٹان ہے۔ بظاہر آپ کو خیال آسکتا ہے کہ یہ بڑی چٹان چشمہ کا راستہ روک دے گی۔ مگر بہت جلد آپ کا یہ شبہ ختم ہو جائے گا۔ جب آپ دیکھیں گے کہ چٹان کے پاس پہنچ کر پانی اپنے دائیں بائیں مڑنے لگا۔ یہاں تک کہ چٹان کے دونوں کناروں کو پار کرکے وہ آگے کی طرف نکل گیا۔ انسان کی مثال اس معاملے میں روشنی کی نہیں، پانی کی ہے۔ انسان کا ارادہ ایک ایسا سیلاب ہے جس کو کوئی چیز روک نہیں سکتی۔ زندگی کے سفر میں کوئی ایسا مقام نہیں جہاں حقیقتاً انسان کا راستہ رکتا ہو۔ جہاں ایک راستہ بظاہر بند نظر آئے۔ وہاں دوسرے بہت سے راستے کھلے ہوئے ہوں گے۔ ایک نادان آدمی بلاشبہ یہ کرسکتا ہے کہ سامنے کا راستہ بند دیکھ کر مایوس ہوجائے یا اس سے ٹکرا کر اپنی جان دے دے۔ لیکن اگر آپ اپنی آنکھوں سے کام لیں اور عقل سے سوچ کر صورت حال سے نمٹنے کا جذبہ آپ کے اندر ہو تو کبھی آپ اس حادثہ سے دوچار نہیں ہو سکتے کہ آپ کا راستہ آپ کو بند نظر آئے۔ زندگی کی جدوجہد زندگی ایک طویل جدوجہد ہے۔ اس جدوجہد میں وہی شخص کامیاب ہو سکتا ہے جس کے اندر یہ حوصلہ ہو کہ وہ خود طلب ہی کو اپنا حاصل بنا سکے۔ انسان بظاہر ایک محدود مخلوق ہے مگر وہ اپنے اندر لامحدود تمنائیں رکھتا ہے۔ اس کی صلاحیتیں اور اس کے حوصلے اتھاہ حد تک وسیع ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ جب وہ زندگی کی جدوجہد میں داخل ہوتا ہے تو موجودہ دنیا اپنی تمام وسعتوں کے باوجود اس کو تنگ نظر آنے لگتی ہے۔ ہر کامیابی اس کو ادھوری معلوم ہونے لگتی ہے ۔ ہریافت اس کو اس احساس سے دوچار کرتی ہے کہ جو کچھ اسے پانا تھا اس کو وہ نہ پا سکا ۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page