Urdu book · تعمیر حیات

تعمیر حیات

Urdu book, p. 93

By Maulana Wahiduddin Khan

رچرڈ ڈیلی کی کامیابی کا خاص راز یہ تھا کہ اس نے شکا گو کی تعمیر جدید کو وہاں کے باشندوں میں سے ہر ایک کا ذاتی مسئلہ بنا دیا۔ اس نے ہر ایک کے اندر یہ ذہن پیدا کیا کہ یہ کام مجھے کرنا ہے، اور میں ہی اس کو انجام دوں گا۔ اس نے شکا گو میں بسنے والے ہر ہر شخص کو یہ ماٹو دیا ۔ میں اس کو کروں گا: I will do it. کسی بڑے تعمیری کام کے لیے یہ صحیح ترین ماٹو ہے ۔ ہر آدمی کے اندر یہ جذبہ ہونا چاہیے کہ جب وہ کسی معاملے کو دیکھے تو وہ سمجھے کہ یہ میری ہی ذمہ داری ہے۔ یہ کام مجھ کو ہی انجام دینا ہے۔ اگر سوسائٹی کے ہر فرد کے اندر یہ جذبہ ابھر آئے تو اس کے بعد ہر منصوبہ کی تکمیل یقینی ہو جائے گی۔ شکاگو بظاہر ایک برا نام تھا۔ مگر اصل کام شہر کا نام بدلنا نہیں ہے بلکہ شہریوں کا مزاج بدلنا ہے۔ شہر کا نام بدلنا ایک بے نتیجہ کام ہے۔ لیکن اگر شہریوں کے مزاج کو بدل دیا جائے تو ایک تباہ حال شہر بھی ایک اچھا شہر بن جائے گا۔ دوسروں کے خلاف نعرہ سماج میں اکھاڑ پچھاڑ پیدا کرتا ہے ۔ اپنے لیے نعرہ سماج کو ترقیاتی سرگرمیوں کی طرف لے جاتا ہے ۔ پہلے قسم کے نعرے سے لیڈر کی شخصیت بنتی ہے اور دوسری قسم کے نعرہ سے ملک بنتا ہے ۔ پہلا نعرہ تخریب ہے اور دوسرا نعرہ تعمیر۔ پچیس سال البرٹ سا بن (Albert Sabin) ایک امریکی سائنس داں ہے ۔ وہ 1906 میں پولینڈ میں پیدا ہوا۔ اس کی عمر پندرہ سال کی تھی کہ اس کے والدین ترک وطن کر کے امریکہ آگئے ۔ یہیں 3 مارچ 1993 کو اس کی وفات ہوئی۔ اس نے پچیس سال کی لگا تار محنت اور تجربہ سے ایک ایسا پولیو ویکسن (Polio vaccine) تیار کیا جو کہ منہ کے راستہ سے

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page