پچیس سال
Urdu book, p. 94
By Maulana Wahiduddin Khan
استعمال کیا جاسکتا تھا۔ جب کہ عام طور پر ویکسین انجکشن کے ذریعہ اندر داخل کیے جاتے ہیں۔ کہا جاتا ہے کہ اب تک 500 ملین لوگ اس کی ایجاد سے فائدہ اٹھا چکے ہیں۔ استحقاق کے باوجود البرٹ سابن کو نوبیل انعام نہیں ملا۔ مگر اس نے اس کی پروا نہ کی۔ اس نے کہا کہ میرے لیے یہی کافی ہے کہ مجھے ایک ایسی جگہ مل جائے جہاں میں اپنا کام کر سکوں: I only ask for a place to work اپنی تحقیق کے دوران اس کو بے شمار مایوسیوں سے دوچار ہونا پڑا۔ مگر مایوسیوں اور ناکامیوں سے بے پروا ہو کر اس نے اپنا عمل جاری رکھا۔ یہاں تک کہ اس کی تحقیق آخری کامیابی کی منزل تک پہنچ گئی ۔ وہ اکثر کہا کرتا تھا کہ آپ کتنے ہی اچھے ہوں ، آپ ایک سائنس داں نہیں بن سکتے جب تک مایوسیوں کے ساتھ جینا نہ سیکھیں: No matter how good you are, you cannot be a scientist unless you learn to live with frustration. یہی موجودہ دنیا میں کامیابی کا عام اصول ہے۔ یہاں کوئی قابل ذکر کامیابی صرف اس باہمت شخص کے لیے ہے جو 25 سال“ یکسو ہو کر عمل کر سکے۔ جو نا کامیوں کے درمیان اپنا سفر جاری رکھے۔ جو بار بار گرنے کے باوجود بار بار اٹھے۔ جو اعتراف اور تحسین سے بے پروا ہو کر اپنے مقصد کے حصول میں سرگرم رہے جس کی طاقت کا خزانہ اس کے اپنے اندر ہو نہ کہ اس کے باہر۔ جولوگ عدم اعتراف کی شکایت کریں ۔ جو نا موافق حالات سے گھبرا اٹھیں۔ جن کی نظر مواقع سے زیادہ مسائل پر رہتی ہو، وہ اس دنیا میں کبھی کوئی بڑی کامیابی حاصل نہیں کر سکتے۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader