تعمیر حیات
Urdu book, p. 96
By Maulana Wahiduddin Khan
اعتبار سے تو ایک موقع کھونے کے بعد دوسرا موقع ملنے کا بھی امکان رہتا ہے۔ مگر آخرت کا موقع ایک بار ملنے کے بعد دوسری بار ملنے والا نہیں۔ یہاں جو شخص ایک بار کامیاب ہوا وہ ہمیشہ کے لیے کامیاب ہو گیا اور جو ایک بار ناکام ہوا وہ ہمیشہ کے لیے نا کام رہ گیا۔ ترقی کا زینہ جی ڈی برلا ہندوستان کے چند انتہائی بڑے صنعت کاروں میں سے ایک ہیں۔ انھوں نے برٹش دور میں معمولی حیثیت سے آغاز کیا اور اپنی زندگی ہی میں افسانوی حیثیت حاصل کرلی۔ وہ بجاطور پر ہندوستانی صنعت کے معماروں میں شمار کیے جاتے ہیں۔ برلا کی ایک سوانح حیات چھپی ہے جس کا نام ہے ” کرم یوگی گھنشيام جی “۔ اس کتاب کا دیباچہ ان کے صاحبزادے کے برلا نے لکھا ہے۔ یہ دیباچہ ہندوستان ٹائمز (20 اپریل 1994) نے اپنے خصوصی شمارہ میں شائع کیا ہے۔ اس کا ایک حصہ یہاں نقل کیا جاتا ہے۔ جی ڈی برلا ابتداء کلکتہ کی ایک برٹش فرم میں بروکر ( دلال ) تھے ۔ وہ محنت اور دیانت داری کے ساتھ اپنا کام کرتے تھے اس لیے متعلق افراد ان سے خوش رہتے تھے۔ برلا بظاہر اپنے کام پر مطمئن تھے ۔ ان کے دل میں کبھی کبھی خیال آتا تھا کہ خود اپنی کوئی انڈسٹری لگائیں مگر حالات کے اعتبار سے اس طرح کا فیصلہ لینا آسان بھی نہ تھا۔ چنانچہ بروکر کی حیثیت سے وہ اپنے کام میں لگے رہے۔ ایک روز ایسا ہوا کہ کمپنی کی بلڈنگ میں اوپر جانے کے لیے برلا ایک لفٹ میں داخل ہوئے ۔ اس میں ایک انگریز تھا۔ اس نے برلا کو یہ کہہ کر باہر نکال دیا کہ یہ لفٹ انڈین کے استعمال کے لیے نہیں ہے۔ یہ واقعہ توہین آمیز اور اشتعال انگیز تھا۔ لیکن برلا نے ایسا نہیں کیا کہ اس کے بعد وہ انگریزوں پر اپنا غصہ اتارنے میں مصروف ہو جائیں ۔ اس کے بجائے یہ واقعہ ان کے لیے ایک مہمیز بن گیا۔ برلا کے فرزند کی زبان میں لفٹ کے واقعے

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader