انسان کی تلاش
Urdu book, p. 9
By Maulana Wahiduddin Khan
سے زیر بحث آنے کی پوزیشن ہی نہیں۔ اب دوسرے معیار کے پہلو سے دیکھئے ۔ یہاں بھی پہلے ہی جیسا معاملہ ہے۔ اسلام کے سوا دوسرے بڑے مذہبوں میں سے کوئی بھی مذہب اس معیار پر پورا نہیں اترتا۔ مثال کے طور پر ہندوازم کی مقدس کتابوں میں بتایا گیا ہے کہ ستارے انسان کی قسمت پر اثر انداز ہوتے ہیں۔ مگر سائنسی طور پر اس کا کوئی ثبوت نہیں۔ اسی طرح ہندو مذہب کے مقدس بزرگ یدھستر کے بارے میں بتایا جاتا ہے کہ ان کی سچائی کی بنا پر ان کار تھ زمین کے اوپر چلتا تھا اور ایک بار جب وہ جھوٹ بولے تو ان کار تھے نیچے گر کر زمین پر آگیا۔ لیکن زمین کا سائنسی مطالعہ یہ ثابت نہیں کرتا کہ سچ یا جھوٹ زمین کی قوت کشش پر اثر انداز ہوتے ہیں۔ اسی طرح اکثر غیر اسلامی مذاہب میں یہ مانا گیا ہے کہ دنیا کی تمام چیزیں خدا کے وجود کا حصہ ہیں۔ یہ خود خدا ہے جو مختلف اشیاء کی صورت میں اپنا ظہور دکھار ہا ہے۔ تمام چیزیں خدا کے وجود کا ئنش ہیں۔ مگر علمی تجزیہ سے یہ نظریہ ثابت نہیں ہوتا۔ مثال کے طور پر کائنات کی مختلف موجودات کا حال یہ ہے کہ ان کو کاٹا جا سکتا ہے، ان کو جلایا جا سکتا ہے، ان کو مختلف صورتوں میں بدلا جا سکتا ہے۔ اب یہ بات نا قابل تصور ہے کہ جو چیزیں خدا کے وجود کا حصہ ہوں ان کے اوپر اس طرح انسانی عمل جاری ہو سکے۔ تیسرے معیار پر بھی اسلام کے سوا کوئی مذہب پورا نہیں اترتا۔ اسلام کے سوا دوسرے تمام مذاہب نا قابل عمل اور غیر مفید تعلیمات سے بھرے ہوئے ہیں۔ مثال کے طور پر جین مذہب اور بدھ مذہب میں سب سے بڑا گناہ جان کو مارنا ہے اور سب سے بڑی نیکی جان کو بچانا۔ یہاں تک کہ جین مذہب کی کتابوں میں یہ لکھا ہوا ہے کہ رام اور کرشن نرک میں گئے، کیوں کہ انھوں نے تلوار اور تیر کمان کے ذریعہ جان کو مارا تھا۔ بدھ مذہب اور جین مذہب کا یہ عقیدہ اس معنی میں نہیں ہے کہ ظلم اور زیادتی کے طور پر کسی کو نہ مارا جائے ۔ بلکہ ان کے عقیدہ کے مطابق، مطلق طور پر ہی جان کو مارنا ناتقابل معافی گناہ

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader