انسان کی تلاش
Urdu book, p. 8
By Maulana Wahiduddin Khan
ہے یا وہ اس کی تردید کر رہا ہے۔ ثابت شدہ علوم اس کے موافق ہیں یا اس کے خلاف۔ ۳۔ اس کی تعلیمات میں انسانی زندگی کے لئے کیا ایسی کوئی اسکیم ہے جو ابدی طور پر قابل عمل ہو اور جس کی افادیت کا عملی ثبوت بھی موجود ہو۔ ایک جائزہ اب مذکورہ اصولوں کی روشنی میں مختلف مذاہب کا ایک مختصر جائزہ لیجئے۔ اس سلسلہ میں پہلا معیار تاریخی معیار ہے۔ اس معیار کی روشنی میں دیکھا جائے تو اسلام کے واحد استثناء کو چھوڑ کر تمام معروف مذاہب خالص تاریخی معیار پر غیر مستند قرار پاتے ہیں۔ مثال کے طور پر ہند وازم میں رام کو ایک راجہ کا بیٹا بتایا گیا ہے۔ مگر معلوم تاریخی ریکارڈ میں ایسے کسی راجا یا راجا فیملی کا کوئی ثبوت نہیں۔ اسی طرح کرشن کو ایک بڑی جنگ کے کرداروں میں سے ایک کردار مانا گیا ہے۔ مگر خالص تاریخ کے اعتبار سے ایسی کسی جنگ کا ثبوت نہیں ملتا۔ اسی طرح گوتم بدھ کی طرف کچھ تعلیمات منسوب کی جاتی ہیں۔ حالانکہ آج تک یہ ثابت نہیں کہ گوتم بدھ کون سی زبان بولتے تھے۔ اسی طرح ویدوں کو ہند وازم کی مقدس کتاب مانا جاتا ہے۔ مگر ویدوں کی تاریخ کے بارے میں کچھ بھی معلوم نہیں ہے۔ خالص تاریخی ماخذ کی بنیاد پر کوئی نہیں بتا سکتا کہ وید کب لکھے گئے اور ان کے لکھنے والے کون تھے۔ حضرت مسیح کے پیغمبر ہونے کی اصولی تصدیق قرآن سے معلوم ہوتی ہے۔ مگر فلسطین اور شام کی باقاعدہ تاریخ میں ان کا کوئی حوالہ موجود نہیں۔ حضرت مسیح کا کچھ ترجمہ شدہ کلام نئے عہد نامہ (انجیل) کی صورت میں آج موجود ہے۔ مگر اس کو معتبر نہیں کہا جا سکتا۔ حتیٰ کہ اس کا بھی کوئی ثبوت نہیں کہ حضرت مسیح نے کس زبان میں کلام کیا تھا۔ کیونکہ اس وقت فلسطین کے علاقہ میں کئی زبانیں رائج تھیں۔ مثلاً رومی اور عبرانی وغیرہ۔ یہی معاملہ اسلام کے سوا تمام مذاہب کا ہے۔ یہ مذاہب خالص تاریخی طور پر غیر معتبر ہیں۔ اور جو مذہب تاریخی اعتبار یت (historical credibility) نہ رکھتا ہو وہ خالص علمی اعتبار

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader