انسان کی تلاش
Urdu book, p. 10
By Maulana Wahiduddin Khan
ہے، نہ چھوٹی جان کو اور نہ بڑی جان کو۔ مگر جدید دریافتوں کے بعد یہ نظریہ سراسر ناقابلِ عمل ثابت ہو چکا ہے۔ مثال کے طور پر ہماری زمین میں کئی حصے ایسے ہیں جہاں غیر لحمی خوراک سرے سے قابلِ حصول ہی نہیں یا بہت کم قابلِ حصول ہے۔ ایسی حالت میں اس قسم کا مذہب تمام انسانوں کا مذہب نہیں بن سکتا۔ مزید یہ کہ جدید سائنسی انکشافات نے اس قسم کے عقیدہ کو سراسر بے بنیاد ثابت کر دیا ہے۔ مثال کے طور پر جدید مطالعہ سے یہ ثابت ہوا ہے کہ زندگی کا تعلق صرف انسان اور حیوان ہی سے نہیں بلکہ پانی، دودھ، سبزی اور پھل جیسی چیزوں میں بھی بڑے پیمانے پر زندگی پائی جاتی ہے۔ حتیٰ کہ ہوا میں بھی کثیر تعداد میں زندہ اجسام موجود ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ذبیح کرنے والے یا گوشت کھانے والے لوگ ہی زندگی کو مارنے کے مجرم نہیں بلکہ وہ لوگ بھی ہر لمحہ بے شمار زندگیوں کو ہلاک کر رہے ہیں جو اپنے خیال کے مطابق سبزی خور ہیں۔ اس طرح کی بہت سی مثالیں ہیں جن سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ یہ مذاہب جدید علمی ترقیوں کے معیار پر اپنی صداقت کو باقی رکھنے میں ناکام ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ زندگی کا کوئی قابلِ عمل نقشہ اسلام کے سوا کسی اور مذہب میں موجود نہیں۔ اسلام ایک نعمت حقیقت یہ ہے کہ اسلام ہی واحد مذہب ہے، جو مذکورہ تینوں معیار پر اپنی صداقت و واقعیت کو ثابت کرتا ہے۔ اسلام کے سوا دوسرا کوئی مذہب نہیں جو ان تینوں قسم کی جانچ میں پورا اترے۔ پہلے معیار کی روشنی میں دیکھئے تو معلوم ہوگا کہ اسلام پورے معنوں میں ایک تاریخی مذہب ہے۔ اس کے تمام اجزاء خالص تاریخ کے علمی معیار پر پورے اترتے ہیں۔ اسی طرح اسلام کے بعد سائنس کا ظہور ہوا اور ہزاروں حقائق سامنے آئے جو اس سے پہلے انسان کو معلوم نہ تھے۔ مگر کوئی بھی نئی تحقیق اسلام کی پچھلی تعلیم کی علمی معقولیت کو مشتبہ نہ کر سکی۔ بعد کی سائنسی دریافتیں اسلام کے بیانات کی صرف علمی تصدیق بنتی چلی گئیں نہ کہ ان کی تردید۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader