Urdu book · تعمیر انسانیت

انسان کی تلاش

Urdu book, p. 12

By Maulana Wahiduddin Khan

نتیجہ میں وہ ایک دوسرے سے مختلف ہوگئے۔ قرآن کی سورہ نمبر ۲ میں ارشاد ہوا ہے کہ ”لوگ ایک امت تھے۔ انھوں نے اختلاف کیا تو اللہ نے پیغمبروں کو بھیجا خوش خبری دینے والے اور ڈرانے والے۔ اور ان کے ساتھ اتاری کتاب حق کے ساتھ تاکہ وہ فیصلہ کر دے ان باتوں کا جن میں لوگ اختلاف کر رہے ہیں۔ اور یہ اختلاف انھیں لوگوں نے کیا جن کو حق دیا گیا تھا، بعد اس کے کہ ان کے پاس کھلی کھلی ہدایات آ چکی تھیں، آپس کی ضد کی وجہ سے۔ پس اللہ نے اپنی توفیق سے حق کے معاملہ میں ایمان والوں کو راہ دکھائی جس میں وہ جھگڑ رہے تھے اور اللہ جس کو چاہتا ہے سیدھی راہ دکھاتا ہے۔“ (البقره ۲۱۳) قرآن کی اس آیت میں مذاہب کی جو نوعیت بتائی گئی ہے وہ یہ ہے کہ خدا نے انسانیت کا آغاز ایک پیغمبر سے کیا۔ اس کو اپنی تعلیمات دیں تا کہ وہ لوگوں کو ان سے آگاہ کر دے۔ مگر بعد کی نسلوں میں بگاڑ آیا اور خدا کی تعلیم اپنی اصل صورت میں باقی نہ رہی۔ اب دوسرا پیغمبر آیا۔ جس نے خدا کی تعلیمات کو از سر نو اس کی صحیح صورت میں پیش کیا۔ مگر بعد کی نسلوں میں دوبارہ بگاڑ آ گیا اور دوبارہ ایسا ہوا کہ خدا کی تعلیم اپنی اصل صورت میں باقی نہ رہی۔ اس کے بعد پھر نیا پیغمبر آیا تا کہ وہ از سر نو خدا کے دین کی تجدید کرے۔ یہ معاملہ ہزاروں سال تک جاری رہا۔ یہاں تک کہ آخری زمانہ میں بگاڑ جب بہت بڑھ گیا تو پیغمبر آخر الزماں حضرت محمد ﷺ خدا کی طرف سے بھیجے گئے۔ قرآن میں آیا ہے کہ ــ ”اور ہم نے تم پر کتاب صرف اس لئے اتاری ہے کہ تم ان کو وہ چیز کھول کر سنا دو جس میں وہ اختلاف کر رہے ہیں اور وہ ہدایت اور رحمت ہے ان لوگوں کے لئے جو ایمان لائیں۔“ (النحل ٦٤) پیغمبر عربی ﷺ کے ذریعہ مذہبی اختلافات کو ختم کر کے مذہب کا جو مستند متن عطا کیا گیا وہ کتاب الہی کا آخری متن ہے۔ واضح ہو کہ نیا نبی صرف عملی بگاڑ پر نہیں آتا بلکہ وہ اس وقت آتا ہے جب کہ خدا کی کتاب میں بگاڑ آ جائے اور خدا کی رہنمائی اپنی اصل صورت میں باقی نہ رہے۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page