ترقی اور اتحاد
Urdu book, p. 144
By Maulana Wahiduddin Khan
کائنات اپنے قابل پیشین گوئی کردار کی وجہ سے کامل ہے، اسی طرح انسان بھی اس وقت کامل ہو سکتا ہے کہ وہ قابل پیشین گوئی کردار کا حامل بنے۔ کثرت میں وحدت کائنات کا مطالعہ کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ اس میں کثرت میں وحدت کا اصول کارفرما ہے۔ یعنی چیزیں بظاہر مختلف اور متعدد ہیں۔ مگر جب ان کا تجزیہ کیا جاتا ہے تو معلوم ہوتا ہے کہ تمام چیزیں اپنی آخری حقیقت کے اعتبار سے ایٹم (Atom) کا مجموعہ ہیں۔ ہر چیز بالآخر ایٹم ہے ، خواہ بظاہر وہ کچھ بھی دکھائی دیتی ہو۔ یہی کائناتی پیٹرن انسانوں کے اندر بھی ملحوظ رکھا گیا ہے۔ انسان بظاہر دیکھنے میں ایک دوسرے سے مختلف نظر آتے ہیں۔ ان میں رنگ اور دوسری چیزوں کے اعتبار سے بہت سے فرق پائے جاتے ہیں۔ مگر ان کا تاریخی تجزیہ کیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ تمام نسلیں آخر کار ایک ماں باپ پر جا کر ختم ہوتی ہیں۔ گویا سب ایک دوسرے کے بھائی ہیں نہ کہ ایک دوسرے کے غیر۔ یہی بات قرآن میں ان لفظوں میں کہی گئی ہے کہ اے لوگو، اپنے رب سے ڈرو جس نے تم کو ایک جان سے پیدا کیا اور اس سے اس کا جوڑا نکالا، اور پھر ان دونوں سے بہت سے مرد اور عورت زمین پر پھیلا دیئے (یا ایھا الناس اتقوا ربكم الذي خلقكم من نفس واحدة وخلق منها زوجها وبث منهما رجالا كثيرا ونساء) یہی بات حدیث میں اس طرح آئی ہے : الا كلكم بنو آدم وادم من تراب (سن لو کہ تم سب آدم کی اولاد ہو اور آدم مٹی سے تھے) وحدتِ انسانیت کا یہ تصور ہر انسان کے دل میں دوسرے انسان کے لیے محبت اور خیر خواہی کا جذبہ پیدا کرتا ہے۔ وہ پوری انسانی نسل کو ایک خاندان اور ایک برادری کی مانند بنا دیتا ہے۔ چنانچہ حدیث میں ارشاد ہوا ہے : الخلق عیال الله فاحب الخلق الى الله تمام مخلوق اللہ کی کنبہ ہے۔ پس تمام لوگوں میں اللہ کے نزدیک سب سے زیادہ محبوب وہ ہے جو اس کے کنبہ کے ساتھ اچھا سلوک کرے۔ کائناتی ماڈل کثرت میں وحدت کی صفت رکھتا ہے۔ انسان کو بھی اسی کائناتی ماڈل پر اپنی زندگی

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader