ترقی اور اتحاد
Urdu book, p. 145
By Maulana Wahiduddin Khan
کا نقشہ بنانا چاہیے ۔ اس کو کئ میں ایک کا نمونہ بن جانا چاہیے ۔ کائنات میں جب کثرت میں وحدت (Unity in diversity) کا اصول کار فرما ہے ، تو انسان کے لیے درست نہیں کہ وہ یہاں کثرت کو ایک کرنے (Unification of diversity) کے طریقہ پر زندگی کا نظام بنانے کی کوشش کرے۔ حیاتیاتی اخوت وحدت انسانیت یا وحدت بنی آدم کی حقیقت جس کا اعلان پیغمبر اسلام نے چودہ سو سال پہلے کیا تھا ، اب وہ جدید تحقیقات کے نتیجہ میں ایک سائنسی واقعہ کی صورت اختیار کر چکی ہے ۔ موجودہ زمانہ میں مالے کیول حیاتیات (Molecualr biology) نے بہت ترقی کی ہے۔ ڈی این اے (DNA) کے ذریعہ گہرے نسلی رازوں کو دریافت کرنا ممکن ہو گیا ہے۔ چنانچہ امریکہ میں جین کے ماہرین (Geneticists) کی ایک ٹیم نے یہ کام اپنے ذمہ لیا کہ وہ انسان کے مشترک جد اعلیٰ (Common ancester) کو دریافت کریں گے ۔ ڈی این اے کے طریقہ میں ابتدائی باپ (Great-grandfather) کو دریافت کرنا زیادہ مشکل تھا۔ انہوں نے (Great-grandmother) ابتدائی ماں) کا پتہ لگانے پر اپنی ساری توجہ مرکوز کر دی۔ ان حیاتیاتی سائنس دانوں نے مختلف علاقوں کی ۴۷ حاملہ خواتین کو تیار کیا کہ وہ غیر مولود بچہ کے مادے (Placentas) انہیں بطور عطیہ دیں۔ اس مادہ پر وہ ساڑھا سال تک امریکہ کی ایرکنڈیشنڈ لیبارٹریوں میں تحقیق کرتے رہے جو برکلے میں واقع تھیں۔ انہوں نے ان سے جسمانی نسیج (Body tissue) کے نمونے نکالے اور ان پر طرح طرح سے تجربات کیے۔ آخر کار انہوں نے اعلان کیا ہے کہ انہوں نے پہلی خاتون (First woman) یا مذہبی اصطلاح میں حوا (Eve) کو دریافت کر لیا ہے۔ سائنس دانوں کے نزدیک یہ خاتون ۲۰۰ ہزار سال پہلے زمین پر آباد تھی۔ وہ تمام انسانوں کی مشترک ماں ہے، وہ ہم سب کی تقریبًا 10,000 ویں دادی ہے ۔ تحقیقات نے بتایا ہے کہ وہ تمام ظاہری فرق جن کی بنیاد پر نسلی اختلاف یا اونچی نسل اور نیچی نسل کے نظریات بنائے گیے تھے ، وہ محض وقتی اور سطحی تھے۔ مثال کے طور پر جلد کا رنگ محض آب و ہوا سے مطابقت کا نتیجہ ہوتا ہے۔ افریقہ میں کالا رنگ سورج سے بچاؤ کے لیے ، یورپ میں سفید الٹرا وائلٹ شعاعوں کو جذب کرنے کے لیے جو کہ وٹامن ڈی کی پیدائش میں مددگار ہے۔ جلد کا رنگ

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader