Urdu book · تعمیر انسانیت

ترقی اور اتحاد

Urdu book, p. 147

By Maulana Wahiduddin Khan

نیو یارک (امریکہ) کے انگریزی ہفت روزہ نیوزویک (۱۱ جنوری ۱۹۸۸) میں سات صفحات پر شائع ہوا ہے۔ ان تحقیقات کے مطابق جنینی شہادت (Genetic evidence) نے اس قدیم خیال کی تردید کردی ہے کہ انسانی نسل مختلف الگ الگ شاخوں سے تعلق رکھتی ہے۔ اس سے ثابت ہوا ہے کہ تمام اولادِ آدم ایک ہی مشترک انسانی برادری کا حصہ ہے۔ ہارورڈ یونیورسٹی کے پروفیسر اسٹیفن جے گولڈ نے کہا : (Stephen Jay Gould) یہ تصویر حیرت ناک حد تک اہم ہے۔ یہ ہم کو یقین دلاتا ہے کہ تمام انسان ، خارجی ظواہر میں فرق کے باوجود ، حقیقتہً ایک ہی واحد نسل کے افراد ہیں جو کہ بہت قریبی عہد میں ایک مقام پر شروع ہوئی تھی۔ یہاں ایک قسم کی حیاتیاتی اخوت ہے جو کہ اس سے بہت زیادہ گہری ہے جواب تک ہم نے سمجھا تھا۔ وہ اخوت جو حیاتیاتی واقعہ کے طور پر پہلے سے پائی جارہی ہے، اس کو سماجی سطح پر اختیار کر لینا، یہی انسانی اتحاد اور انسانی یک جہتی کا واحد راز ہے۔ یہ اتحاد اور یک جہتی کا وہ فطری نسخہ ہے جس کا اشارہ خود ہماری پیدائشی بناوٹ میں موجود ہے۔ اس تحقیق نے ایک طرف ان تمام نظریات کو باطل ثابت کر دیا ہے جو رنگ اور نسل کے فرق کی بنا پر انسانیت کو مختلف گروہوں میں بانٹے ہوئے تھے ، دوسری طرف اس نے بتا دیا ہے کہ انسانوں کے درمیان یک جہتی قائم کرنے کی فطری تدبیر کیا ہے۔ تنوع کا اصول جس دنیا میں ہم رہ رہے ہیں اس کا نظام تنوع اور رنگارنگی کے اصول پر قائم ہے۔ یہی تنوع انسانوں کے درمیان بھی مطلوب ہے۔ ہمیں انسانوں کے درمیان یہ مزاج بنانا چاہیے کہ وہ اختلاف کے باوجود متحد ہوں ، وہ مختلف اور متنوع انسانوں کے ساتھ مل کر زندگی گزارنا سیکھیں۔ انسانی ایکتا قائم کرنے کے لیے فرق کو مٹانا قدرت کے نظام کے خلاف ہے، اس لیے وہ کبھی کامیاب نہیں ہو سکتا۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page