Urdu book · تعمیر انسانیت

ترقی اور اتحاد

Urdu book, p. 148

By Maulana Wahiduddin Khan

مثال کے طور پر جانوروں کو لیجئے ۔ جانوروں کی ایک ملین سے بھی زیادہ قسمیں دنیا میں پائی جاتی ہیں اور ہر ایک کا ایک کام ہے جو اسی کے ساتھ مخصوص ہے ۔ یہاں زمین پر رینگنے والے کیڑوں کی بھی ضرورت ہے جو گندگی اور بیکار چیزوں کو Decompose کر کے ہماری فضا کو برابر پاک صاف کرتے رہتے ہیں ۔ یہاں بیل کی بھی ضرورت ہے جو ہمارے کھیت کو جوتے اور گھوڑے کی بھی ضرورت ہے جو ہماری سواری کے کام آئے ، ایک طرف اگر یہاں چڑیوں کی ضرورت ہے جو چہچہائیں ، تو دوسری طرف گدھے کی بھی ضرورت ہے کہ جب وہ چینے تو آپ پوچھیں کہ مجھے اس طرح چیخ کر نہیں بولنا چاہیے ۔ یہی معاملہ تمام دوسری چیزوں کا ہے ۔ اس دنیا میں بے حساب تنوع اور رنگارنگی ہے ۔ اسی تنوع پر اس کا سارا نظام چل رہا ہے ۔ اسی پیٹرن پر انسانوں کے پیدا کرنے والے نے انسانوں کے اندر بھی فرق اور تنوع رکھا ہے ۔ اس تنوع کو باقی رکھنے ہی میں انسانیت کی ترقی اور کامیابی ہے ۔ اس تنوع کو ختم کرنا ایسا ہی ہے جیسے انسانوں کو یکساں قد کا بنانے کے لیے لوگوں کو نیچے اوپر سے تراش کر برابر کیا جانے لگے ۔ حد بندی کا نظام کائنات کا مطالعہ بتاتا ہے کہ یہاں حد بندی کا نظام قائم ہے ۔ ہر چیز اپنے متعین دائرہ میں رہ کر اپنا کام کرتی ہے ، وہ اپنے دائرہ سے نکل کر دوسرے دائرہ میں داخل نہیں ہوتی ۔ یہی بات قرآن میں ان لفظوں میں کہی گئی ہے : اور سورج اپنے مستقر پر چلتا ہے ، یہ زبردست علم والے کا باندھا ہوا اندازہ ہے ۔ اور چاند کے لیے منزلیں مقرر ہیں ۔ یہاں تک وہ ایسا رہ جاتا ہے ۔ جیسے کھجور کی ٹہنی ۔ نہ سورج کی مجال ہے کہ وہ چاند کو جا پکڑے اور نہ رات دن سے پہلے آسکتی ہے ، سب ایک ایک دائرہ میں چل رہے ہیں (یس ۳۸-۴۰) ان آیتوں میں اس فلکیاتی حقیقت کی طرف اشارہ کیا گیا ہے کہ اس کائنات کے تمام گھومنے والے ستارے اور سیارے حد درجہ صحت کے ساتھ اپنے اپنے مدار (Orbit) میں گھومتے ہیں ۔ وہ کبھی اپنی حد کو چھوڑ کر دوسرے کی حد میں داخل نہیں ہوتے ۔ یہی حد بندی انسان سے بھی مطلوب ہے ۔ چنانچہ قرآن میں کہا گیا ہے کہ جو لوگ اللہ کی قائم کی ہوئی حدوں کی حفاظت ورزی کرتے ہیں وہ اللہ کے نظام میں (دیگر آیت کے الفاظ میں حدود اللہ و ام لئک ھو

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page