ترقی اور اتحاد
Urdu book, p. 149
By Maulana Wahiduddin Khan
یہی بات حدیث میں ان لفظوں میں کہی گئی ہے : وحد حدوداً فلا تعتدوها اور اللہ نے حدیں مت قائم کر دی ہیں تو تم ان حدوں کی خلاف ورزی نہ کرو) ایک اور حدیث میں اس بات کو مثال کے ذریعے اس طرح واضح کیا گیا ہے : مثل المومن ومثل الايمان كمثل الفرس مومن کی مثال اور ایمان کی مثال ایسی ہے جیسے فی اخيته يحول ثم يرجع الى اخيته گھوڑا جو اپنی رسی میں بندھا ہوا ہو۔ وہ گھومتا ہے پھر وہ اپنی رسی کی طرف لوٹ آتا ہے ۔ ایک گھوڑے کی گردن میں 5 میٹر کی رسی ہو، وہ رسی ایک کھونٹے سے بندھی ہوئی ہو تو گھوڑا اپنی عادت کے مطابق چاروں طرف گھومے گا مگر وہ رسی کی لمبائی سے زیادہ نہ جاسکے گا ۔ رسی اگر 5 میٹر کی ہے تو اس کی حرکت کا دائرہ بھی 5 میٹر تک محدود رہے گا ۔ آسمان کے ستارے ایک ان دیکھی رسی میں بندھے ہوئے ہیں جو انہیں ان کے مقرر مدار (Orbit) سے باہر نہیں جانے دیتی ۔ اسی طرح انسان کو بھی ایک اخلاقی رسی میں باندھا گیا ہے ۔ یہ رسی صحیح اور غلط کی رسی ہے۔ اس کو صحیح کام کرنا ہے مگر غلط کام کی طرف قدم نہیں بڑھانا ہے۔ انسان کو انصاف پر قائم رہنا ہے، اس کو ظلم کرنے کی اجازت نہیں ۔ اس کو سچ بولنا ہے، سچ بولنا ہے۔ جھوٹ بولنا اس کے لیے جائز نہیں۔ اس کو اپنی ترقی اور کامیابی کے لیے سرگرم ہونے کی اجازت ہے مگر اس کو یہ اجازت نہیں کہ وہ دوسرے کو نقصان پہنچانے کی قیمت پر اپنے لیے فائدہ حاصل کرے۔ یہ حقیقت ایک لطیفہ میں بہت اچھی طرح واضح ہوتی ہے ۔ ایک ملک کا واقعہ ہے ۔ اس کو بیرونی اقتدار سے آزادی ملی۔ اس کے بعد وہاں کا ایک شہری سڑک پر نکلا۔ وہ خوشی سے جھومتا ہوا جارہا تھا اور اپنے دونوں ہاتھ زور زور سے ہلا رہا تھا۔ اس دوران اس کا ہاتھ ایک راہگیر کی ناک سے ٹکرا گیا۔ راہگیر نے غصہ ہو کر پوچھا کہ تم اس طرح ہاتھ ہلاتے ہوئے کیوں چل رہے ہو ۔ آہستگی کے ساتھ کیوں نہیں چلتے۔ شہری نے کہا کہ آج میرے ملک کو آزادی مل چکی ہے۔ اب میں آزاد ہوں کہ جو چاہوں کروں۔ راہگیر نے آہستگی کے ساتھ جواب دیا کہ تمہاری آزادی وہاں ختم ہو جاتی ہے جہاں سے میری ناک شروع ہوتی ہے :

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader