ترقی اور اتحاد
Urdu book, p. 150
By Maulana Wahiduddin Khan
اس دنیا میں ہر آدمی کو عمل کی آزادی ہے۔ مگر ایک شخص کو اپنا "ہاتھ" ہلانے کی آزادی وہیں تک ہے جہاں وہ دوسرے کی "ناک" سے نہ ٹکرائے۔ جیسے ہی دوسرے شخص کی ناک سے ٹکرانے کی حد شروع ہو، وہیں ہاتھ ہلانے والے کی آزادی کی حد بھی ختم ہو جائے گی۔ ادنیٰ سے اعلیٰ ایک درخت کی کامیابی کا راز یہ ہے کہ وہ ادنیٰ کو اعلیٰ بنا سکتا ہے۔ وہ جامد مادہ کو منو پذیر شئے میں تبدیل کرتا ہے۔ وہ باہر سے مٹی اور پانی اور گیس لیتا ہے اور اس کو پتی اور پھول اور پھل کی صورت میں سامنے لے آتا ہے۔ اسی طرح کسی انسانی سماج کے بہتر سماج ہونے کا دارو مدار تمام تر اس پر ہے کہ اس کے افراد یہ صلاحیت رکھتے ہوں کہ وہ ادنیٰ سلوک کو اعلیٰ سلوک میں تبدیل کر سکیں۔ اس معاملہ میں انسان کے نفسیاتی وجود کو بھی ایسا ہی ہونا چاہیے جیسا کہ بنانے والے نے اس کے حیاتیاتی وجود کو بنایا ہے۔ انسان جو چیزیں کھاتا ہے ان میں ایک جز، شکر کا ہوتا ہے۔ شکر اپنی ابتدائی صورت میں انسان کے لیے بے فائدہ ہے۔ چنانچہ انسان کے جسم میں پینکریاز (Pancreas) کا نظام رکھا گیا ہے جس کا عمل سادہ طور پر یہ ہے کہ وہ شکر کو انرجی (طاقت) میں تبدیل کرتا ہے۔ اسی تبدیلی کی صلاحیت پر انسان کی طاقت اور صحت کا انحصار ہے۔ جس آدمی کے جسم کا یہ سسٹم بگڑ جائے، اس کے اندر داخل ہونے والی شکر انرجی میں تبدیل نہیں ہوگی۔ وہ یا تو خون میں شامل ہو جائے گی یا پیشاب کے راستہ سے باہر آنے لگے گی۔ اس کے بعد انسان بے حد کمزور ہو جائے گا۔ اسی سے وہ مہلک بیماری پیدا ہوتی ہے جس کو ذیا بیطس (Diabetes) کہا جاتا ہے۔ اگر ایک آدمی ذیا بیطس کا مریض (Diabetic) ہو جائے ۔ یعنی اس کا جسمانی نظام شکر کو انرجی میں تبدیل کرنے کی صلاحیت کھو دے تو زندگی اس کے لیے بے معنی ہو جائے گی۔ وہ سب کچھ ہوتے ہوئے بے کچھ ہو جائے گا۔ اسی طرح جو سماج اس مزاج سے خالی ہو جائے ۔ یعنی اس کے افراد ادنیٰ سلوک کو اعلیٰ سلوک میں ڈھالنے کا ثبوت نہ دے سکیں، ایسا سماج ایک بیمار سماج ہے۔ ایسے سماج کو درست کرنے کی کوئی بھی تدبیر اس کے سوا نہیں کہ اس کے اندر دوبارہ یہ اعلیٰ صلاحیت پیدا کی جائے۔ آج کل ہمارے سماج میں جو بگاڑ اور ٹکراؤ پایا جاتا ہے اس کی وجہ یہ نہیں ہے کہ لوگوں کے

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader