Urdu book · تعمیر انسانیت

ترقی اور اتحاد

Urdu book, p. 151

By Maulana Wahiduddin Khan

کے درمیان تہذیبی فرق ہے ۔ اس کی اصل وجہ یہ ہے کہ ہمارے سماج کے افراد نفسیاتی اعتبار ڈیٹک ہوگئے ہیں۔ ان کے اندر یہ صلاحیت باقی نہیں رہی ہے کہ وہ " شکر " کو " انرجی " میں تبدیل کر سکیں ۔ وہ بے طاقت کو اپنے لیے طاقت بنالیں ۔ سماجی زندگی میں ہمیشہ ایسا ہوتا ہے کہ آدمی کے ساتھ ناخوشگوار تجربات پیش آتے ہیں ۔ ایک شخص کو دوسرے شخص سے کوئی شکایت پیدا ہو جاتی ہے۔ کسی کا مفاد دوسرے کے مفاد سے ٹکرایا جاتا ہے ۔ ایک شخص ایسے الفاظ بولتا ہے جس کو سُن کر دوسرا شخص محسوس کرتا ہے کہ وہ اس کی ذاتی یا قومی حیثیت پر چوٹ کر رہا ہے ۔ اس قسم کے واقعات سماجی زندگی میں لازماً پیش آتے ہیں اور پیش آتے رہیں گے ۔ ہمارے لیے یہ ممکن نہیں ہے کہ ہم ایسے واقعات کی پیدائش کو روک دیں۔ ہمارے لیے جو چیز ممکن ہے وہ صرف یہ ہے کہ ہم ایسے واقعات سے منفی اثر نہ لیں ۔ ایک تندرست آدمی اپنے اندر داخل ہونے والی شکر کو انرجی میں تبدیل کرتا ہے ۔ یہی تبدیلی کا عمل نفسیاتی طور پر بھی مطلوب ہے ۔ اس دنیا میں بہتر سماجی زندگی بنانے کا راز صرف یہ ہے کہ لوگوں کو شعوری اعتبار سے اس قابل بنایا جائے کہ وہ ناخوشگوار واقعہ کو خوشگوار تاثیر میں تبدیل کر سکیں ۔ وہ غصہ کے جواب میں معافی پیش کریں اور برائی کرنے والوں کو اچھے سلوک کا تحفہ دیں ۔ موجودہ سماج کے افراد نفسیاتی اعتبار سے ڈیٹک ہوگئے ہیں۔ ان کی اس نفسیاتی بیماری کا علاج کیجئے ، اور پھر آپ دیکھیں گے کہ جو سماج باہمی اختلافات کا گہوارہ بنا ہو اتھا وہ متنوع قسم کے پودوں اور درختوں کا خوشنما باغ بن گیا ہے ۔ تبدیلی کا اصول کائناتی پیٹرن کا ایک پہلو یہ ہے کہ یہاں کا پورا نظام تبدیلی (Conversion) کے اصول پر قائم ہے ۔ یہاں کسی چیز کی انادیت کا معیار یہ ہے کہ وہ کنورژن کے اصول پر پوری اترے ۔ مثلاً اس دنیا میں انسان کی سانس سے اور دوسرے اسباب سے بڑی مقدار میں کاربن ڈائی آکسائڈ پیدا ہوتی ہے ۔ درخت اس کو اپنے اندر لے لیتے ہیں۔ درخت کے اندر یہ کاربن ڈائی آکسائڈ

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page