Urdu book · تعمیر انسانیت

ترقی اور اتحاد

Urdu book, p. 152

By Maulana Wahiduddin Khan

فضار ہریلی ہو جائے اور انسان اور حیوانات کے لیے اس دنیا میں زندہ رہنا ممکن ہو جائے۔ مگر درخت اس کاربن ڈائی آکسائڈ کو مخصوص عمل کے ذریعہ آکسیجن میں تبدیل کرتے ہیں اور اس کو آکسیجن کی صورت میں خارج کرتے ہیں ۔ وہ دوسروں سے زہریلی گیس لے کر دوسروں کو مفید گیس کا تحفہ پیش کرتے ہیں ۔ اسی طرح مثلاً گائے کو دیکھئے! گائے گویا قدرت کی انڈسٹری ہے جو گھاس کھاتی ہے اور اس کو دودھ کی صورت میں ہمیں لوٹاتی ہے ۔ وہ انسان کے لیے ناقابل خوراک چیز کو قابل خوراک چیز میں کنورٹ کرنے کا قدرتی کارخانہ ہے ۔ گائے اگر ایسا کرے کہ وہ گھاس کھا کر گھاس خارج کرنے لگے تو وہ اپنی قیمت اور افادیت کھو دے گی ۔ کنورژن (تبدیلی) کا یہ اصول جو بقیہ دنیا میں قائم ہے ، وہی انسان سے بھی مطلوب ہے بقیہ دنیا کی صحیح کارکردگی کا راز یہ ہے کہ وہ کنورژن کے اصول پر کام کر رہی ہو۔ اسی طرح بہتر زندگی اور کامیاب انسانی سماج بننے کا راز بھی یہی ہے کہ اس کے افراد اس صلاحیت کا ثبوت دے سکیں کہ وہ "گھاس" پائیں اور اس کو "دودھ" کی صورت میں دنیا والوں کی طرف لوٹا سکیں ۔ قرآن میں سچے انسانوں کے بارے میں کہا گیا ہے کہ جب انہیں غصہ آتا ہے تو وہ معاف کر دیتے ہیں ( واذا ما غضبوا هم يغفرون ) یعنی دوسروں کی طرف سے انہیں ایسے سلوک کا تجربہ ہوتا ہے جو ان کے اندر غصہ اور انتقام کی آگ بھڑکانے والا ہو ، مگر وہ غصہ اور انتقام کی آگ کو اپنے اندر ہی اندر بجھا دیتے ہیں اور دوسرے شخص کو جو چیز لوٹاتے ہیں وہ معافی اور درگذر کا سلوک ہوتا ہے نہ کہ غصہ اور انتقام کا سلوک ۔ قرآن میں ارشاد ہوا ہے کہ بھلائی اور برائی دونوں یکساں نہیں ۔ تم جواب میں وہ کہو جو اس سے بہتر ہو پھر تم دیکھو گے کہ تم میں اور جس میں دشمنی تھی ، وہ ایسا ہو گیا جیسے کوئی قریبی دوست ( حم السجده (۳۴) اس آیت کے بارہ میں حضرت علی بن ابی طالب نے فرمایا : اللہ کے مومن بندے حسن سلوک سے اللہ تعالی انسان کو حکم دیتا ہے کہ وہ عوض کہ

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page