ترقی اور اتحاد
Urdu book, p. 154
By Maulana Wahiduddin Khan
اگر آپ ٹریکٹر پر ۵۰ کلومیٹر کا سفر کریں تو آپ اپنی منزل پر اس طرح پہنچیں گے کہ آپ تھکے ہوئے ہوں گے۔ اس کے برعکس جب آپ ایک اچھی موٹر کار پر ۵۰ کلومیٹر کا سفر کریں تو آپ منزل پر اس طرح اترتے ہیں کہ آپ بالکل تازہ دم ہوتے ہیں۔ دونوں گاڑیوں میں اس فرق کا سبب کیا ہے۔ اس کا سبب شاک ابزار بر ہے۔ کار جب چلتی ہے تو زیادہ تر اس کا پہیہ نیچے اوپر ہوتا ہے، باڈی نیچے اوپر نہیں ہوتی۔ اس کے برعکس جب ٹریکٹر چلتا ہے تو اس کا پہیہ اور باڈی دونوں نیچے اوپر ہوتے رہتے ہیں۔ دوسرے لفظوں میں ، کار اس گاڑی کا نام ہے کہ جو جھٹکا گاڑی کو لگا وہ گاڑی تک رہ گیا ، وہ مسافر تک نہیں پہنچا۔ اس کے برعکس ٹریکٹر اس گاڑی کا نام ہے کہ جو جھٹکا گاڑی کو لگا وہ گاڑی تک نہیں رُکا ، بلکہ وہ مسافر تک پہنچ گیا۔ سچا انسان دنیا میں کار کی طرح جیتا ہے ، اور جھوٹا انسان ٹریکٹر کی طرح۔ سچے انسان کے سینے میں ایک " شاک ابزار بر" ہوتا ہے جو تمام جھٹکوں اور صدموں کو اندر ہی اندر سہتا رہتا ہے۔ اس کے برعکس جھوٹے انسان کے اندر " شاک ابزار بر" نہیں ہوتا۔ وہ ہر جھٹکے کو دوسروں تک پہنچاتا رہتا ہے۔ اچھا سماج بنانا ہے تو سچے انسان بنائیے ۔ کیوں کہ یہ دراصل جھوٹے انسان ہی ہیں جو سماج کو بگاڑ اور فساد سے بھر دیتے ہیں ۔ یک طرفہ طریقہ دہلی کے ایک انگریزی اخبار میں میں نے ایک آرٹیکل پڑھا۔ اس کا عنوان تھا دو طرفہ طریقہ بہترین طریقہ ہے (Bilateralism is Best)۔ یعنی دو فریقوں کے درمیان نزاع ہو تو اس کو حل کرنے کا طریقہ یہ ہے کہ دونوں "ففٹی ففٹی" پر راضی ہو جائیں ۔ پچاس فیصد ذمہ داری ایک فریق لے اور پچاس فی صد ذمہ داری دوسرا فریق لے ۔ اور اس طرح معاملہ کو ختم کر دیا جائے۔ یہ بات گرامر کے لحاظ سے صحیح مگر حقیقت کے اعتبار سے غلط ہے ۔ کیوں کہ وہ موجودہ دنیا میں ناقابل عمل ہے۔ اس دنیا میں کوئی نزاع اسی وقت ختم ہو سکتی ہے جب کہ ایک فریق یک طرفہ طور پر اس کو ختم کرنے پر راضی ہو جائے۔ اس لحاظ سے یہ کہنا زیادہ صحیح ہوگا کہ یک طرفہ طریقہ بہترین طریقہ ہے :

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader