تعمیر کی طرف
Urdu book, p. 156
By Maulana Wahiduddin Khan
تعمیر کی طرف امریکہ کے سابق صدر رچرڈ نکسن (۱۹۱۳) نے اپنی کتاب " فتح بغیر جنگ" میں دوسرے ملکوں کے ساتھ ہندوستان کا بھی ذکر کیا ہے ۔ وہ ہندوستان کے سیاسی نظام پر تبصرہ کرتے ہوئے لکھتے ہیں : Those who believe India is not governed well should remember how miraculous it is that it is governed at all. Richard Nixon, 1999-Victory Without War, 1988. جو لوگ یہ خیال کرتے ہیں کہ ہندوستان میں اچھی حکومت قائم نہیں، انھیں یاد رکھنا چاہیے کہ یہ خود کیسا عجیب معجزہ ہے کہ وہاں حکومت قائم ہے (انڈین ایکسپریس، ۲۱ اپریل ۱۹۸۸) ہندوستان کے اجتماعی نظام کے بارہ میں مسٹر نکسن کا یہ تبصرہ یقیناً بہت سخت ہے۔ مگر دانش مندی یہ ہے کہ اس پر شکایت کرنے کے بجائے اس کو ہم اپنے لیے ایک چیلنج سمجھیں کہنے والے کے خلاف غصہ اتارنے کے بجائے ہم اپنی ساری توجہ ملک کی داخلی تعمیر میں لگا دیں، اہم ملک کو اتنا اونچا اٹھائیں کہ کسی "نکسن" کو ہمارے خلاف اس قسم کا ریمارک دینے کی ہمت نہ رہے۔ اس کی ایک مثال جاپان ہے۔ دوسری عالمی جنگ کے خاتمہ پر جاپان دنیا کی نظر میں ایک حقیر ملک بن گیا تھا ۔ مگر اس کے بعد ہم سالہ محنت کے ذریعہ جاپان نے اپنے آپ کو اتنا اوپر اٹھا لیا کہ اب کسی کو اس کے خلاف بولنے کی جرات نہیں ہوتی۔ ضرورت ہے کہ ہم از سر نو اپنے معاملہ پر غور کریں ۔ اور کسی تاخیر کے بغیر صحیح رخ پر اپنا سفر شروع کر دیں تاکہ ہمارا مستقبل ، ہمارے حال کے مقابلہ میں ، بہتر اور شاندار ہو سکے ۔ نئی دہلی کے انگریزی اخبار انڈین ایکسپریس (۷ فروری، ۱۲ فروری ، ۱۹۸۰) میں ہندوستان کے سینیر جرنلسٹ ایس ملگا و کر (S. Mulgaokar) کا ایک آرٹیکل دو قسطوں میں چھپا تھا جس کا عنوان یہ تھا : Can systemic changes provide the entire answer کیا ڈھانچہ میں تبدیلی مکمل جواب ہے، مضمون نگار نے اس میں کہا تھا کہ ہماری آزادی پر چالیس سال

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader