تعمیر کی طرف
Urdu book, p. 157
By Maulana Wahiduddin Khan
بیت چکے ہیں۔ ہم نے کئی اعتبار سے ترقی بھی کی ہے۔ مگر ہمارے مسائل ابھی بہت زیادہ ہیں، اور مجموعی طور پر ہمارے مسائل ہماری ترقی سے بڑھے ہوئے ہیں : Our problems are many and serious, and on balance, appear to outweigh the progress. مسٹر ملگا ؤکر نے ان لوگوں کی بات کو نہیں مانا تنہا جو حالات کو ٹھیک کرنے کے لیے ڈھانچہ میں تبدیلی کی بات کرتے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ ڈھانچہ کو آخر کار آدمی ہی تو چلاتے ہیں ۔ جب آدمی اچھے نہ ہوں تو ڈھانچہ کیسے اچھا کام کرے گا : In the final analysis, a system is only as good as those who operate it. مسٹر ملگا ؤکر کی اس بات سے مجھے اتفاق ہے۔ اس کو بڑھاتے ہوئے میں کہوں گا کہ مہاتما گاندھی نے ہمارے ملک کو سیاسی بنیاد (Political base) دی۔ اس کے بعد پنڈت جواہر لال نہرو کے ہاتھ میں اقتدار آیا اور انھوں نے اس ملک کو صنعتی بنیاد (Industrial base) دی۔ اب ضرورت ہے کہ تیسرا ضروری کام کیا جائے ۔ اور وہ ہے اس ملک کو اخلاقی بنیاد (Moral base) دینا۔ ہم سمجھتے ہیں کہ یہ تیسری چیز، اخلاقیات، قومی زندگی میں فیصلہ کن عامل کی حیثیت رکھتی ہے۔ یہ ایک ایسی حقیقت ہے جس کا تقریباً سبھی لوگوں نے اعتراف کیا ہے۔ ملک کو اخلاقی بنیاد دینے کا کام کوئی آسان کام نہیں ہے۔ بلاشبہ یہ مشکل ترین کام ہے۔ اور اس کے لیے نہایت صبر آزما جد و جہد کی ضرورت ہے۔ لمبی خاموش جد و جہد کے ذریعہ ہمیں یہ کرنا ہے کہ لوگوں کے اندر اخلاقی بیداری (Moral awareness) پیدا کریں۔ قومی تعمیر کے سلسلہ میں یہ بہت بنیادی بات ہے۔ اس اصلاحی کام میں ہمارا سفر ذہنی تعمیر (Mind building) سے شروع ہونا چاہیے نہ کہ سیاسی ڈھانچہ کے خلاف مظاہرہ اور ایجی ٹیشن سے، اس مہم میں ہمارا نشانہ انسان کو بدلنا ہے نہ کہ حکمرانوں کو بدلنا ۔ اخلاقی بیداری کا لفظ یہاں میں کسی محدود معنی میں نہیں بول رہا ہوں، بلکہ وسیع معنی میں بول رہا ہوں ۔ اس سے میری مراد خاص طور پر وہ چیز پیدا کرنے سے ہے جس کو دوسرے لفظوں میں

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader