Urdu book · تعمیر انسانیت

تعمیر کی طرف

Urdu book, p. 158

By Maulana Wahiduddin Khan

تعمیری سوچ (Constructive thinking) کہا جاسکتا ہے۔ یعنی رد عمل کا طریقہ چھوڑ کر مثبت طریقہ کا پابند ہونا۔ مسائل کو لڑے بغیر حل کرنے کی کوشش کرنا۔ دوسروں سے ٹکراؤ کو نظر انداز کرتے ہوئے اپنی زندگی کا سفر طے کرنا۔ ممکن چیز (Possible) سے اپنا عمل شروع کرنا کہ اس چیز سے جو نا ممکن (Impossible) ہے ۔ یہی اصلاح کا حقیقی طریقہ ہے۔ اس کے سوا جو طریقے ہیں، وہ سب کھونے کے طریقے ہیں ، وہ پانے کے طریقے نہیں ۔ جاگ یا اویرنس پیدا کرنے کا کام اسی وقت مفید ہو سکتا ہے جب کہ وہ تعمیری انداز میں ہو۔ یعنی اس کا رخ اپنی طرف ہو نہ کہ دوسروں کی طرف۔ دوسروں سے مانگ کرنے کے بجائے اپنے آپ کو دیکھا جائے ۔ اپنے حقوق سے زیادہ اپنی ذمہ داریوں کا احساس ابھارا جائے ۔ لوگوں کے اندر جذباتی انداز فکر (Emotional approach) ختم کیا جائے اور ان کے اندر عقلی اندازِ فکر (Rational approach) پیدا کرنے کی کوشش کی جائے۔ یہ ذہن بنایا جائے کہ لوگ معاملہ کو دوسرے کے اوپر نہ ڈالیں بلکہ اس کی ذمہ داری خود قبول کریں۔ جہاں معاملہ ایک سے زیادہ آدمیوں کا ہو وہاں ذمہ داری خود قبول کرنے سے مسئلہ حل ہوتا ہے ، دوسروں کے اوپر ڈالنے سے کبھی مسئلہ ختم نہیں ہو سکتا۔ اویرنس پیدا کرنے کا یہ کام مجاریٹی کمیونٹی اور مانارٹی کمیونٹی دونوں کے درمیان کرنا ہے۔ دونوں کے اندر یہ سوچ ابھارنا ہے کہ وہ دوسروں کو الزام دینے کا طریقہ چھوڑیں اور اپنے آپ میں جھانک کر دیکھنے کا مزاج پیدا کریں ۔ وہ ماضی کی باتوں کو بھلائیں اور مستقبل کے لحاظ سے اپنی منصوبہ بندی کریں ۔ اسی کے ساتھ ایک اور چیز ہے جو لیڈر شپ کی سطح پر مطلوب ہے ۔ ۱۹۴۷ سے پہلے ہمارے لیڈروں نے " انگریز ہٹاؤ " کا نعرہ دیا تھا۔ اس کے بعد مسز اندرا گاندھی نے " غریبی ہٹاؤ " کا نعرہ دیا۔ مسٹر راجیو گاندھی نے آل انڈیا کانگریس کمیٹی کے ۹۷ ویں اجلاس (اپریل ۱۹۸۸) میں " بیکاری ہٹاؤ " کا نعرہ دیا ہے۔ مگر محض اس قسم کے نعروں سے ملک کا مسئلہ نہ اب تک حل ہوا ہے اور نہ آئندہ حل ہونے والا ہے۔ اصلی نعرہ جس سے مسئلہ حل ہو سکتا ہے، وہ ہے— " اپنے آپ کو ہٹاؤ " حقیقت یہ ہے کہ اس ملک کو سیاسی اعتبار سے ایک ڈی گال کی ضرورت ہے۔ ہمارے

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page