Urdu book · تعمیر انسانیت

تعمیر کی طرف

Urdu book, p. 159

By Maulana Wahiduddin Khan

لیڈر اگر ڈیگال بننے کا حوصلہ کریں تو سارے مسائل چند برسوں میں حل ہو سکتے ہیں۔ موجودہ مفسدہ کی صورت میں وہ سو برس میں بھی حل ہونے والے نہیں۔ کبھی ایسا ہوتا ہے کہ قوم کو زندہ کرنے کے لیے فرد کو اپنے آپ کو ہلاک کرنا پڑتا ہے۔ موجودہ زمانہ میں فرانس کے چارلس ڈیگال (۱۹۰ - ۱۸۹۰) نے اس کی ایک مثال پیش کی ہے۔ اور ہندوستان کو آج اپنے حالات کے اعتبار سے اسی قسم کے ایک ڈیگال کی ضرورت ہے ۔ ڈیگال ۱۹۵۸ء میں فرانس کے صدر منتخب ہوئے۔ اس وقت افریقہ میں فرانس کے تقریباً ایک درجن مقبوضات تھے جن میں آزادی کی تحریک چل رہی تھی۔ خاص طور پر الجیریا میں یہ تحریک بہت شدت اختیار کر چکی تھی۔ فرانس نے اس کو کچلنے کے لیے تقریباً ۲۵ لاکھ لوگوں کو سزائیں دیں یا قتل کر دیا۔ اس کے باوجود الجیریا میں آزادی کی تحریک دبتی ہوئی نظر نہیں آتی تھی۔ یہ صورتِ حال چارلس ڈیگال کے لیے سخت تشویش ناک بن گئی۔ انسائیکلوپیڈیا برٹانیکا (۱۹۸۲) کے الفاظ میں، الجیریا کی جنگ کے مسائل ان کے لیے اس میں روک بن گئے کہ وہ مستقبل کی مثبت پالیسیوں (Positive policies) کے بارے میں خاکہ بنانے سے زیادہ کچھ کر سکیں (جلد ۷، صفحہ ۹۶۴) فرانس اپنے افریقی مقبوضات کو فرانس کا صوبہ (Province) کہتا تھا۔ وہ ان کی زبان اور کلچر کو اس حد تک بدل دینا چاہتا تھا کہ وہاں کے باشندے اپنے آپ کو فرانسیسی کہنے اور سمجھنے لگیں، مگر یہ منصوبہ فرانس کے لیے بہت مہنگا پڑا۔ علانیہ ممالک فرانس کا صوبہ نہ بن سکے اور اس غیر حقیقت پسندانہ کوشش نے خود فرانس کو ایک کمزور ملک بنا دیا۔ فرانس کی تمام بہترین طاقت مقبوضہ ممالک میں آزادی کی تحریکوں کو دبانے اور کچلنے میں استعمال ہونے لگی اور فرانس نے یورپ کی ایک عظیم طاقت (Great power) ہونے کی حیثیت کھودی ۔ سب سے بڑا نقصان یہ ہوا کہ افریقہ پر قبضہ کرنے کی کوشش میں فرانس ایٹمی دوڑ میں پیچھے ہو گیا۔ انسائیکلوپیڈیا برٹانیکا کے مقالہ نگار نے لکھا ہے کہ چارلس ڈیگال نے محسوس کیا کہ نو آبادیاتی جنگ لڑنے کی کوشش فرانس کے لیے اس میں مانع ہو گئی ہے کہ وہ بڑے پیمانے پر ایٹمی تحقیق کرے۔ چنانچہ ڈیگال نے الجیریا کو آزاد کر دیا اور اس کے بعد مضبوط ایٹمی طاقت کو وجود میں لانے کی کوشش شروع کر دی جو فرانس کی عظیم حیثیت کے لیے نئی بنیاد بن سکے۔ (جلد ۴، صفحہ ۹۰۵)

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page