دین کا کائنات
Urdu book, p. 15
By Maulana Wahiduddin Khan
بہکتے۔ خدا کے اس دین کا اعلان ہر دور میں اور تمام نبیوں کے ذریعہ کیا گیا ہے۔ انجیل میں یہی بات حضرت مسیح کی زبان سے ان الفاظ میں آئی ہے : "پس تم اس طرح دعا کیا کرو کہ اے ہمارے باپ تو جو آسمان پر ہے تیرا نام پاک مانا جائے ۔ تیری بادشاہت آئے۔ تیری مرضی جیسی آسمان پر پوری ہوتی ہے زمین پر بھی پوری ہو "۔ (متی باب ۶) اس کا مطلب یہ ہے کہ آسمانوں میں ، بالفاظ دیگر، انسان کے سوا بقیہ کائنات جس طرح کسی انحراف کے بغیر خدا کے حکم پر چل رہی ہے ، اسی طرح انسان بھی پوری طرح خدا کی مرضی پر چلنے لگے۔ حضرت مسیح کے قول میں بادشاہت (kingdom) کا لفظ کسی سیاسی معنی میں نہیں ہے۔ وہ صرف ایک اسلوب کلام ہے۔ اس کا مطلب صرف یہ ہے کہ ہر انسانی فرد اپنی زندگی میں خدا کے احکام پر چلنے لگے۔ اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ کچھ افراد اپنے آپ کو خدا کا نمائندہ بتا کر یہ کہیں کہ لوگوں کے اوپر ہم اپنا اقتدار قائم کریں گے تاکہ ان کے در میان خدا کے حکم کو بز در نافذ کر سکیں۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ مومن کون ہے اور کافر کون ۔ مومن وہ ہے جو خدا پر کامل یقین رکھتے ہوئے اپنی زندگی کو خدا کے حوالے کر دے۔ حدیث کے الفاظ میں، وہ اس گھوڑے کی طرح ہو جائے جو ایک محدود لمبائی والی رسی کے ساتھ کھونٹے سے بندھا ہوا ہے۔ وہ کھونٹے کے چاروں طرف گھومتا ہے مگر وہ رسی کی حد سے آگے نہیں جاسکتا۔ (مسند احمد ۳ / ۵۵) اس کے مقابلہ میں کافر وہ ہے جو اپنے آپ کو خدا کی رسی میں نہ باندھے۔ وہ اپنی زندگی کو خدا کی مرضی کے تابع نہ بنائے۔ بلکہ وہ اپنی عقل اور اپنی خواہش کے پیچھے چلتا ر ہے ۔ مومن یا کافر دونوں میں سے کسی کا بھی تعلق کسی نسل یا قوم سے نہیں ہے بلکہ دونوں ہی کا تعلق انفرادی عمل سے ہے۔ یہ دراصل ذاتی عمل ہے جو کسی کو خدا کی نظر میں مومن بناتا ہے۔ اور دوبارہ یہ ذاتی عمل

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader