دین کا کائنات
Urdu book, p. 16
By Maulana Wahiduddin Khan
ہی ہے جو کسی کو خدا کی نظر میں کافر درجہ دے دیتا ہے۔ اسی سے یہ بھی معلوم ہوا کہ ایک شخص جو آج بظاہر مومن ہے وہ اپنی غیر مومنانہ فکر اور اپنی غیر مومنانہ روش سے خدا کی نظر میں کافر بن جاتا ہے۔ اسی طرح ایک شخص جو آج بظاہر کافر ہے وہ اگر ایمان اور ایمان والی زندگی کو اختیار کرلے تو خدا کی نظر میں وہ مومن کا درجہ حاصل کر لے گا۔ اس معاملہ میں "دو قومی نظریہ "درست نہیں۔ یعنی ایسا نہیں ہے کہ مومن اور کافر دو نسلی گروہ ہیں۔ ایک گروہ کے لئے قومی جنت ہے اور دوسرے گروہ کے لئے قومی جہنم۔ صحیح بات یہ ہے کہ ایمان اور کفریا جنت اور جہنم کا معاملہ تمام تر افراد کے ذاتی عقیدہ و عمل سے تعلق رکھتا ہے نہ کہ نسل اور قوم کی اجتماعی نسبت سے۔ حقیقت یہ ہے کہ خدا کا ایک ہی دین ہے جو اس کی تمام مخلوقات سے یکساں طور پر مطلوب ہے۔ انسان کے سوا بقیہ کائنات میں وہ لازمی ڈسپلن کی صورت میں قائم ہے، اور انسان کی زندگی میں وہ اختیاری ڈسپلن کی صورت میں قائم ہوتا ہے۔ بقیہ کائنات کی دنیا میں اس کا نام قانون فطرت ہے، اور انسان کی دنیا میں اس کا نام قانون شریعت۔ چند مثالیں قرآن کی سورہ نمبر ۱۳ میں ارشاد ہوا ہے کہ ــــــ اللہ ہی ہے جس نے آسمان کو بلند کیا بغیر ایسے ستون کے جو تمہیں نظر آئیں ۔ پھر وہ اپنے تخت پر متمکن ہوا اور اس نے سورج اور چاند کو ایک قانون کا پابند بنایا۔ ہر ایک، ایک مقرر وقت پر چلتا ہے۔ اللہ ہی ہر امر کی تدبیر کرتا ہے۔ اور وہی آیات کی تفصیل کر رہا ہے تا کہ تم اپنے رب سے ملنے کا یقین کرو۔ (الرعد (۲) قرآن کے اس بیان میں تدبیر امر سے مراد خدا کا وہ انتظام ہے جو وہ کائنات میں براہ راست اور کامل طور پر نافذ کئے ہوئے ہے۔ اور تفصیل آیات سے مراد وہ آیات ہیں جو وحی کے ذریعہ پیغمبر پر نازل کی گئی ہیں۔ دوسرے لفظوں میں اول الذکر سے مراد قانون فطرت ہے

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader