Urdu book · تعمیر انسانیت

تعمیر کی طرف

Urdu book, p. 160

By Maulana Wahiduddin Khan

ڈیگال نے معاملہ کو قومی مسلک یا ذاتی قیادت سے الگ ہو کر دیکھا۔ ٹھنڈے دل سے سوچنے کے بعد وہ اس رائے پر پہنچے کہ اس مسئلہ کا حقیقت پسندانہ حل صرف ایک ہے، اور وہ یہ کہ افریقی مقبوضات کو آزاد کر دیا جائے۔ تاہم فرانس کے لیے یہ کوئی معمولی بات نہ تھی۔ یہ فرانس کے قومی عزت و وقار (National prestige) کا مسئلہ تھا اور قومی وقار ایسی چیز ہے کہ قومیں پا کر تباہ ہو جاتی ہیں مگر وہ اپنے وقار کو کھونا برداشت نہیں کرتیں۔ یہ یقینی تھا کہ جو شخص اس معاملہ میں قومی وقار کے خلاف فیصلہ کرے گا وہ فرانس میں اپنی مقبولیت کو یکسر ختم کر دے گا۔ تاہم ڈیگال نے یہ خطرہ مول لیا۔ انسائیکلو پیڈیا برٹینیکا کے الفاظ میں، ڈیگال نے الجیریا کے مسئلہ کو اس وقت حل کر دیا جب کہ ان کے سوا کوئی دوسرا شخص اس کو حل نہیں کر سکتا تھا (جلد ، صفحہ ٩٦٥) جنرل ڈیگال نے اس کے بعد الجیریا کے لیڈروں کو گفت و شنید کی دعوت دی۔ اس گفت و شنید کا فیصلہ عین منصوبہ کے تحت الجیریا کے حق میں ہوا۔ یعنی حکومت فرانس اس پر راضی ہو گئی کہ الجیریا میں ریفرنڈم کرایا جائے اور لوگوں سے پوچھا جائے کہ وہ فرانس کی ماتحتی پسند کرتے ہیں یا آزاد ہونا چاہتے ہیں۔ ریفرنڈم ہوا۔ پیشگی اندازے کے مطابق الجیریا کے باشندوں نے آزاد الجیریا کے حق میں اپنی رائے دیں اور اس کا احترام کرتے ہوئے حکومت فرانس نے جولائی ١٩٦٢ء میں الجیریا کی آزادی کا اعلان کر دیا۔ اس کے نتیجہ میں چارلس ڈیگال پر سخت تنقیدیں ہوئیں۔ ان کے اوپر قاتلانہ حملے کیے گئے۔ اس کے بعد عوام کے دباؤ کے تحت ڈیگال نے فرانس میں ایک ریفرنڈم کرایا جس میں ڈیگال کو شکست ہوئی۔ بالآخر انہوں نے ۲۸ اپریل ١٩٦٩ء کو صدارت سے استعفیٰ دے دیا۔ ۹ نومبر ۱۹۷۰ء کو ان پر قلب کا دورہ پڑا اور ان کا انتقال ہو گیا۔ ڈیگال ایک معمولی قبرستان میں اس طرح دفن کر دیے گئے کہ ان کے جنازے میں ان کے رشتہ داروں اور چند دوستوں کے سوا کوئی اور شریک نہ تھا۔ ڈیگال خود مر گئے۔ مگر انہوں نے مر کر اپنی قوم کو دوبارہ زندگی دے دی۔ ڈیگال کے اس واقعہ سے یورپ میں ایک اصطلاح بنائی گئی ہے جس کو گالزم (Gaulism) کہا جاتا ہے۔ گالزم دراصل اپنی قیادت کی قیمت پر قوم کو بچانا ہے۔ برٹینیکا (۱۹۸۱) کے الفاظ میں، ڈیگال تنہا شخص تھے جس میں یہ حوصلہ تھا کہ وہ ایسے نازک فیصلے لے سکیں جن سے سخت قسم کے سیاسی اور شخصی خطرات (Political and personal risks) وابستہ ہوتے ہیں (7/965)

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page